
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کرایہ داروں کے لیے ماہانہ بنیادوں پر کرایہ ادا کرنا اب ایک حقیقی اور تیزی سے مقبول ہوتا ہوا آپشن بنتا جا رہا ہے۔ پراپ ٹیک انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے رائج چیکس والے کرایہ نظام میں تبدیلی سے لاکھوں رہائشیوں کے لیے رہائشی اخراجات کے انتظام کا طریقہ بدل سکتا ہے۔
پراپ ٹیک سیکٹر کے مختلف ایگزیکٹوز کے مطابق کرایہ دار بڑی یک مشت رقم ادا کرنے سے بچنے کے لیے ماہانہ اقساط میں دلچسپی دکھا رہے ہیں، جبکہ مالکان بھی ڈیجیٹل اور باقاعدہ ماہانہ ادائیگیاں قبول کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں۔ اس تیزی نے کرایہ داری کے عمل کو جدید بنانے کے لیے نئی مصنوعات اور شراکت داریوں کو جنم دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے اس تبدیلی کی ایک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب پراپرٹی فائنڈر نے کیپر نامی پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کا اعلان کیا، جو کرایہ داروں کو سالانہ کرایہ 12 ماہانہ اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ نظام 2026 کی پہلی ششماہی میں پراپرٹی فائنڈر کی ایپ اور ویب سائٹ پر مکمل طور پر شامل کر دیا جائے گا، جس کے ذریعے رہائشی کارڈ یا ڈائریکٹ ڈیبٹ کے ذریعے ماہانہ ادائیگیاں کر سکیں گے۔
کیپر، جس کا آغاز 2023 میں ہوا، کرایہ داروں کو کرایہ ماہانہ بنیادوں پر ادا کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس کے بدلے میں معمولی پریمیم وصول کیا جاتا ہے۔
خلیج ٹائمز سے گفتگو میں پراپرٹی فائنڈر کے چیف ریونیو آفیسر شریف سلیمان نے واضح کیا کہ ماہانہ ادائیگی کا آپشن صرف ایک اضافی سہولت ہے۔ ان کے مطابق روایتی ٹیننسی کنٹریکٹس اور چیکس مستقبل قریب میں برقرار رہیں گے اور کرایہ دار اپنی سہولت کے مطابق آپشن منتخب کر سکیں گے۔ جو کرایہ دار ماہانہ ادائیگی کا انتخاب کریں گے وہ اپنی ادائیگیاں ڈیجیٹل طور پر منظم کر سکیں گے، جس سے بجٹ سازی آسان ہو جائے گی۔
ماہانہ ادائیگی مہنگی پڑے گی؟
سلیمان نے وضاحت کی کہ ہر صورت میں اضافی لاگت نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ مالک مکان کی اصل توقع کیا ہے۔ اگر کرایہ دار مالک کی متوقع ادائیگیوں کے مطابق ادائیگی کریں تو آن لائن نظام کا کوئی اضافی خرچہ نہیں۔
تاہم اگر کرایہ دار 12 ماہانہ ادائیگیوں پر جانا چاہے تو ایک سہولت فیس ادا کرنا ہوگی۔
اسی طرح مالک مکان سے بھی اس وقت فیس لی جاتی ہے جب وہ پہلے کم چیکس میں کرایہ قبول کرنے پر راضی ہو مگر بعد میں پورا کرایہ ایڈوانس لینے کا فیصلہ کرے۔
سلیمان کے مطابق کم اقساط میں ادائیگی اب بھی کرایہ داروں کو بہتر ریٹ دلا سکتی ہے، کیونکہ ہر آپشن کے اپنے مالی فوائد اور لاگت ہوتی ہے۔
کیپر کا ماڈل کیسے کام کرتا ہے؟
دبئی میں عام طور پر کرایہ ایک سے چھ پوسٹ ڈیٹڈ چیکس میں ادا کیا جاتا ہے۔ کیپر اس کا متبادل پیش کرتا ہے، جس کے تحت کرایہ دار سالانہ کرایہ 12 ماہانہ اقساط میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 100,000 درہم سالانہ کرایہ اگر چار چیکس میں ادا ہونا تھا، تو کیپر ماہانہ کارڈ پیمنٹ کے ذریعے 105,000 درہم میں 12 ادائیگیوں کی سہولت دیتا ہے، یعنی 5 فیصد کا پریمیم۔
کیپر کے نظام کے تحت اب تک 2 ارب درہم سے زائد کے کرایوں کو ماہانہ ادائیگی میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
ماہانہ کرایہ کی طلب میں دھماکہ خیز اضافہ
ٹکیم نامی ایک اور پلیٹ فارم نے بھی بتایا ہے کہ ماہانہ ادائیگی کے لیے طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سات ماہ میں پلیٹ فارم نے 50 ہزار سے زائد کرایے شامل کیے ہیں، جن کی مالیت 5 ارب درہم سالانہ بنتی ہے۔ جلد ہی اس کا B2C ورژن بھی آ رہا ہے، جس کے ذریعے انفرادی مالکان اور ایجنٹس بھی اس سہولت تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ٹکیم کے سی ای او راکیش ماوتھ کے مطابق ’’طلب زبردست ہے کیونکہ سب کا فائدہ ہے۔ ہم نے مالکان کے لیے ڈیفالٹ کم کرتے ہوئے تیزی سے قبضہ اور 1 ارب درہم سے زائد کی نئی آمدنی پیدا کی ہے، جبکہ پراپرٹی مینیجرز کو 180 ملین درہم کا اضافی فائدہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ کرایہ داروں کو ماہانہ ادائیگی، کم upfront لاگت اور تیز تر مینٹیننس کی سہولت مل رہی ہے۔







