خلیج اردو
دبئی میں گمشدہ اور ترک کردہ املاک کے حوالے سے نیا سخت قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے قانون نمبر 17 سال 2025 جاری کیا ہے، جس میں گمشدہ اشیاء کی رپورٹنگ، تحویل، حفاظت اور بازیابی کا منظم طریقہ وضع کیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق گمشدہ املاک وہ اشیاء یا رقم ہیں جو قانونی ملکیت رکھتی ہوں اور مالک کے غیر ارادی طور پر کھو جانے کے باعث ضائع ہو جائیں، جبکہ ترک کردہ املاک وہ منقولہ اشیاء ہیں جنہیں مالک نے جان بوجھ کر یا خاموشی سے چھوڑ دیا ہو۔ دونوں صورتوں میں آوارہ جانور شامل نہیں۔
قانون کے تحت دبئی پولیس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ گمشدہ اور ترک کردہ اشیاء وصول کرے، انہیں محفوظ رکھے، ان کا ریکارڈ مرتب کرے اور اس مقصد کے لئے الیکٹرانک نظام قائم کرے۔ پولیس مناسب سمجھنے پر اشیاء کی اعلان کاری بھی کرے گی۔
قانون واضح کرتا ہے کہ جو بھی فرد کوئی گمشدہ شے پائے، اسے 24 گھنٹوں کے اندر پولیس کے الیکٹرانک نظام میں رجسٹر کرنا اور 48 گھنٹوں کے اندر پولیس کے حوالے کرنا ضروری ہوگا۔ ملنے والی شے کو استعمال کرنا، اپنے پاس رکھنا یا اس پر ملکیت کا دعویٰ کرنا قابلِ سزا جرم ہوگا۔
پولیس کے حوالے کی گئی اشیاء کی سرکاری رسید جاری کی جائے گی جس میں شے کی تفصیل، حالت، مقامِ دریافت اور جمع کرانے والے شخص کی معلومات درج ہوں گی۔ پولیس ان اشیاء کے انتظام، حفاظت اور بازیابی سے متعلق تمام امور کی نگرانی کرے گی۔
قانون کے مطابق دبئی پولیس گمشدہ املاک کی اطلاع دینے والے فرد کو سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن یا مالی انعام دے سکتی ہے جو شے کی مالیت کے 10 فیصد تک ہوگا، تاہم زیادہ سے زیادہ حد 50 ہزار درہم مقرر کی گئی ہے۔ اس انعام کے قواعد دبئی پولیس کے کمانڈر انچیف طے کریں گے۔
اگر ایک سال تک مالک سامنے نہ آئے تو ملنے والا شخص پولیس سے اجازت لے کر شے اپنے پاس رکھنے کی درخواست کر سکتا ہے، تاہم مالک کے سامنے آنے کی صورت میں اسے فوری طور پر واپس کرنا لازم ہوگا۔
تمام سرکاری و نجی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حدود میں ملنے والی گمشدہ یا ترک کردہ اشیاء کو پولیس کے الیکٹرانک نظام میں رجسٹر کریں اور مقررہ مدت میں پولیس کے حوالے کریں۔
یہ قانون 2015 کے قانون نمبر 5 کی جگہ نافذ ہو گیا ہے اور اس سے متصادم تمام احکامات منسوخ تصور ہوں گے۔ سابق قانون کے تحت جاری کردہ قواعد و ضوابط اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک نئے قواعد جاری نہیں ہوتے۔ نیا قانون سرکاری گزٹ میں اشاعت کے روز سے نافذ العمل ہے۔







