متحدہ عرب امارات

دبئی کا النصر لیژر لینڈ بند ہونے جار ہے؟ چند ماہ کے لیے بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کا اعلان

خلیج اردو
دبئی: چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک نوجوانوں اور بڑوں کی تفریح کا مرکز رہنے والا النصر لیژر لینڈ جلد ہی چند ماہ کے لیے بند ہونے جا رہا ہے، کیونکہ انتظامیہ نے اس کی مکمل تزئین و آرائش کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اوود میتھا میں واقع یہ مقام 1979 میں افتتاح کے بعد سے دبئی کا نمایاں تفریحی مرکز رہا ہے، جہاں ملک کے ابتدائی آئس رِنکس میں سے ایک، آرکیڈ، بولنگ ایلی اور آؤٹ ڈور واٹر پارک موجود ہیں۔

دبئی کی رہائشی علیشہ محمد کے مطابق انہیں اپنے بچوں کے لیے ونٹر بریک میں اسکیٹنگ کلاسز بک کرانے پر بتایا گیا کہ دسمبر سے آئس رِنک بند ہو جائے گا۔ ان کے مطابق یہ خبر مایوس کن تھی کیونکہ یہ دبئی میں اسکیٹنگ کے کم قیمت مقامات میں سے ایک تھا۔

پیر کے روز خلیج ٹائمز کے رپورٹر نے جب مقام کا دورہ کیا تو فرنٹ ڈیسک پر موجود عملے نے تصدیق کی کہ رواں ماہ کے اختتام تک پورا لیژر لینڈ بند کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق آئس رِنک، بولنگ ایلی، آرکیڈ اور آؤٹ ڈور فروٹ پارک سمیت تمام شعبے بند ہوں گے۔

10 اکتوبر 1979 کو قائم ہونے والا یہ تفریحی مقام 48 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے اور النصر فٹبال کلب کے ساتھ واقع ہے۔ 2019 میں اسپورٹس کلب کی توسیع کے بعد اس مقام پر اب 15 ہزار سے زائد تماشائیوں کی گنجائش والا المشجموم اسٹیڈیم موجود ہے۔

ڈیسک پر لگے نوٹس کے مطابق آئس رِنک کا آخری دن ہفتہ 29 نومبر ہوگا، جس میں شام 4 بجے سے 6 بجے تک صرف آدھا رِنک استعمال کے لیے دستیاب ہوگا۔ اتوار سے آئس رِنک مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ عملے کا کہنا ہے کہ تزئین و آرائش بڑے پیمانے پر ہوگی، اس لیے دوبارہ کھلنے کی کوئی تاریخ نہیں دی جا سکتی۔

خلیج ٹائمز نے النصر لیژر لینڈ کی انتظامیہ سے باضابطہ ردعمل کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم ان کی آفیشل ویب سائٹ اس وقت غیر فعال ہے اور ڈومین نام خریداری کے لیے دستیاب دکھائی دیتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے کئی پرانے رہائشی اس بندش کو ’’ایک دور کے اختتام‘‘ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ محمد اقبال کے مطابق ان کی بچپن کی کئی یادیں اسی مقام سے جڑی ہیں، اور وہ حالیہ برسوں میں اپنے بچوں کو بھی یہاں کے سمر کیمپس میں بھیجتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اپ گریڈ خوش آئند ہے، لیکن ماضی کی یادوں سے جڑا یہ مقام بند ہوتا دیکھ کر دل میں ہلکی سی اداسی ضرور ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button