عالمی خبریں

ہانگ کانگ کی بلند منزلہ عمارت میں خوفناک آگ، ہلاکتوں کی تعداد 44 تک جا پہنچی

خلیج اُردو
ہانگ کانگ میں رہائشی عمارتوں کے بڑے کمپلیکس میں بدھ کی دوپہر لگنے والی بھیانک آگ 20 گھنٹے بعد بھی مکمل طور پر بجھ نہیں سکی، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 44 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ شہر کی دہائیوں میں سب سے ہولناک آگ ہے، اور سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

آٹھ عمارتوں پر مشتمل اس کمپلیکس میں تقریباً 2 ہزار فلیٹس ہیں، اور آگ کی شروعات بامبو اسکیفولڈنگ سے ہوئی جو مرمت کے کام کے دوران اچانک بھڑک اٹھی۔ فائر بریگیڈ نے ابتدائی بریفنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 36 سے بڑھا کر 44 کر دی ہے، جبکہ پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر غیر ارادی قتل کا شبہ ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ بھڑکنے کے بعد عمارتوں سے دھواں اور شعلے آسمان تک بلند ہوتے رہے، جب کہ بامبو اسکیفولڈنگ کے جلنے سے تیز دھماکے جیسی آوازیں بھی سنائی دیں۔ ایک 65 سالہ رہائشی یوئن نے بتایا کہ عمارت میں کئی بزرگ افراد رہتے ہیں جو محدود نقل و حرکت کے باعث فوری باہر نہیں نکل سکے۔ کچھ لوگوں نے کھڑکیاں بند ہونے کی وجہ سے آگ کا احساس ہی نہیں کیا اور پڑوسیوں کی فون کالز پر باہر نکلے۔

آگ کے نتیجے میں 900 سے زائد افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے، جب کہ فائر سروسز کا کہنا ہے کہ کئی فلورز پر درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ امدادی ٹیمیں متاثرین تک نہیں پہنچ پا رہیں۔ فائر سروسز کے نائب ڈائریکٹر کے مطابق تیز ہوا اور جلتے ملبے کے باعث آگ ایک عمارت سے دوسری عمارت تک پھیلی۔

چینی صدر شی جن پنگ نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والے فائر فائٹر اور دیگر متاثرین کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے، جبکہ شہر کے رہنما لی نے کہا ہے کہ تمام سرکاری محکمے متاثرہ افراد کی مدد کر رہے ہیں۔

رہائشیوں نے آگ کو دلخراش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گھروں کو چھوڑنے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ آگ اب بھی پوری طرح قابو میں نہیں آئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق برابر کی عمارتوں کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے، جبکہ قریب کی شاہراہ کے کچھ حصے بند کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہانگ کانگ میں حفاظتی اقدامات بڑھائے جا چکے ہیں اور اس نوعیت کے واقعات کم ہو گئے ہیں، لیکن اس حادثے نے شہر میں بلند عمارتوں کی حفاظت کے نظام پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button