
خلیج اردو
دبئی کے معروف بزنس ٹائیکون خلفان الخربطور نے متحدہ عرب امارات میں عملی اور تجرباتی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ تر طلبہ عملی تجربے کے بغیر پیشہ ورانہ میدان میں داخل ہوتے ہیں، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ ہاؤس کیپنگ اور برتن دھونے جیسے بنیادی کاموں سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، جس کے بعد اسے درمیانی سطح کی ذمہ داری سونپی گئی۔
الخبیر طور نے ’’اوپن ٹاک‘‘ کے دوران کہا کہ اگر کوئی انجینئر بننا چاہتا ہے تو اسے کتاب سے زیادہ تعمیراتی جگہ پر جا کر کام سیکھنا چاہیے، کیونکہ عملی تجربے کے بغیر کوئی بھی پیشہ ور کامیاب نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے بیٹے نے ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی تو انہوں نے اسے ابتدا سے ہر شعبہ سیکھنے کے لیے عملی کام میں شامل کیا تاکہ وہ حقیقی ماحول کو سمجھ سکے۔
الحبتور گروپ، جو ہسپتالٹی، آٹوموٹو، رئیل اسٹیٹ، تعلیم اور اشاعت سمیت مختلف شعبوں میں ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، طلبہ کو عملی تربیت کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ معروف مخیر شخصیت خلف الحبتور اب تک 2 ارب درہم سے زائد کی فلاحی امداد دے چکے ہیں اور 2023 میں انہوں نے 100 افغان طالبات کے لیے اماراتی جامعات میں اسکالرشپ پروگرام بھی متعارف کرایا، جس میں رہائش اور طبی سہولیات بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ عملی تعلیم انتہائی اہم ہے اور ان کی کمپنی مختلف شعبوں کے طلبہ کو انجینئرنگ، قانون اور دیگر شعبوں میں عملی تربیت کے مواقع فراہم کر رہی ہے، کیونکہ محض کتاب پڑھ کر کوئی بھی مکمل پیشہ ور نہیں بن سکتا۔
عربی زبان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خلف الحبتور نے تشویش ظاہر کی کہ نئی نسل عربی زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے اور زیادہ تر بچے انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو اپنی تاریخ، زبان اور ثقافت جاننی چاہیے، جبکہ اسکول اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق آج دادا دادی جب پوتے پوتیوں سے عربی میں بات کرتے ہیں تو وہ انگریزی میں جواب دیتے ہیں، اس لیے عربی زبان کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔







