
خلیج اردو
دو دسمبر 1971 وہ دن تھا جب متحدہ عرب امارات کا پرچم پہلی بار دبئی کے یونین ہاؤس میں لہرایا گیا اور ایک نئی مملکت کا جنم ہوا۔ ان چند خوش نصیبوں میں خالدہ السویدی بھی شامل تھے جنہوں نے اس تاریخی لمحے کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ ابوظبی سے دبئی تک مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے ساتھ سفر بھی کیا۔ وہ شیخ زاید کے عین پیچھے کھڑے تھے جب پہلی مرتبہ یو اے ای کا پرچم فضا میں بلند ہوا۔
انہوں نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں بتایا کہ یہ سفر اتحاد کی روح سے لبریز تھا۔ وہ جبیل علی میں ہونے والا وہ اہم قیام بھی نہیں بھولے جہاں شیخ زاید نے اپنے ساتھیوں سے نئے ملک کی بنیاد اور اتحاد کی اصل روح پر بات کی۔
السویدی نے بتایا کہ "ہم صبح بہت سویرے ابوظبی سے روانہ ہوئے، میں شیخ زاید کی گاڑی کے بالکل پیچھے تھا۔ دن کی اہمیت کے باوجود وہ پُرسکون اور سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے، جیسے وہ مستقبل کا ملک اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہوں۔”
اس زمانے میں دونوں امارات کے درمیان سڑک مکمل نہیں تھی، لیکن سفر کے دوران ہونے والی گفتگو ایک نئی ریاست کے خدوخال بنا رہی تھی۔ جب قافلہ دبئی کے قریب پہنچا تو شیخ زاید نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جبیل علی کے کھلے صحرا میں رکنے کا فیصلہ کیا — وہی علاقہ جو بعد میں دنیا کا بڑا اقتصادی مرکز بنا۔
السویدی نے بتایا کہ "وہ جگہ بالکل خالی تھی۔ شیخ زاید نے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اتحاد کے معنی پر طویل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی بنیاد دلوں کو جوڑنے سے پڑتی ہے۔” اسی دوران انہوں نے وہ تاریخی الفاظ کہے جو السویدی آج تک نہیں بھولے: "آج ہم ایک ایسے ملک کی تعمیر شروع کر رہے ہیں جو صرف ریت پر نہیں بلکہ محبت اور اجتماعی محنت پر قائم ہوگا۔”
اس کے بعد قافلہ یونین ہاؤس پہنچا جہاں امارات کے حکمران اتحاد کے اعلان پر دستخط کرنے کے لیے جمع تھے۔ السویدی شیخ زاید کے چند قدم پیچھے کھڑے تھے جب پہلی بار پرچم لہرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ "جیسے ہی شیخ زاید نے پرچم کا ڈنڈا تھاما، ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ سب جانتے تھے کہ وہ ایک غیر معمولی لمحے کے گواہ ہیں۔ جب پرچم بلند ہوا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، کئی لوگ جذبات سے رو پڑے۔”
لیڈرشپ اور انسانیت
السویدی کے نزدیک اس دن کی سیاسی اہمیت کے ساتھ ساتھ شیخ زاید کی انسان دوستی اور قیادت کا پہلو بھی سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "شیخ زاید سب کا احترام کرتے تھے، چاہے وہ رہنما ہوں، فوجی ہوں یا مزدور۔ وہ سمجھتے تھے کہ حقیقی اتحاد مہربانی، تعاون اور مشترکہ مقصد سے وجود میں آتا ہے۔”
پچاس برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود، السویدی کو آج بھی وہ لمحہ پوری شدت سے یاد ہے۔ "جب بھی میں یو اے ای کا پرچم لہراتا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے وہ دن یاد آ جاتا ہے… شیخ زاید کے پیچھے کھڑا وہ لمحہ، فخر، امید اور وہ یقین کہ ایک نئی قوم کا سفر شروع ہو چکا ہے۔”
یہ یادیں ان کے لیے صرف ایک قصہ نہیں بلکہ بانیٔ مملکت کے وژن اور یو اے ای کی شاندار ترقی کا زندہ ثبوت ہیں۔







