
خلیج اردو
غزہ: یو اے ای کے 54ویں قومی دن کے موقع پر متحدہ عرب امارات نے غزہ کے نوجوانوں کے لیے خوشیوں کی وہ کرن روشن کردی جو جنگ کے ملبے تلے تقریباً بجھ چکی تھی۔ آپریشن چِویلرس نائٹ 3 کے تحت ’’ثوب الفرَح‘‘ (خوشی کا جوڑا) نامی خصوصی پروگرام کے ذریعے 577 رجسٹرڈ امیدواروں میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے 54 دلہے منتخب کیے گئے جن کی شادیاں مکمل طور پر یو اے ای کی جانب سے اسپانسر کی گئیں، جبکہ باقی 577 تمام نوجوانوں کو بھی امدادی سامان، ٹینٹ اور بنیادی اشیائے ضرورت فراہم کی گئیں۔
یہ اقدام ان نوجوانوں کے لیے امید کی تازہ لہر ثابت ہوا جن کے گھر، خواب اور مستقبل جنگ کی تباہ کاریوں میں ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔
امید کی نئی زندگی
ایک منتخب دلہے صالح الصباح نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، “میرا خوابوں کا گھر جنگ نے تباہ کر دیا، لیکن ہم پھر بھی ہمت نہیں ہاریں گے۔ ہم اسی ٹینٹ سے اپنی نئی زندگی شروع کریں گے جو یو اے ای نے ہمیں دیا ہے۔”
اپنے گھر کے ملبے پر کھڑے صالح نے بتایا کہ وہ اپنا گھر، اپنی ٹانگ اور ایک عزیز کھو چکے ہیں، مگر اس انتخاب نے ان میں امید کی شمع دوبارہ روشن کر دی۔
“میرا نام جیسے ہی فہرست میں آیا، مجھے لگا زندگی ایک بار پھر موقع دے رہی ہے۔ یو اے ای نے ہمیں ٹینٹ، کپڑے، دلہے کا سوٹ، دلہن کا لباس، ٹرانسپورٹ — سب کچھ دیا، جو میں خود کبھی نہیں کر پاتا۔”
’خوشی بالکل صحیح وقت پر آئی‘
غزہ کے نوجوان احد ابو دہروج نے کہا، “دو سال کی جنگ کے بعد یہ خوشی بالکل صحیح وقت پر آئی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ سینکڑوں نوجوانوں نے اس اسکیم میں حصہ لیا تھا، اور 54 خوش نصیبوں کے نام قرعہ اندازی سے نکالے گئے۔
“جب میرا نام پکارا گیا تو وہ لمحہ ناقابلِ بیان تھا۔ میرے گھر والوں، منگیتر کے خاندان اور ہر سننے والے نے بے حد خوشی منائی۔”
احد کا کہنا تھا کہ جنگ سے متاثر ہر گھر نے یہ تک سوچنا چھوڑ دیا تھا کہ کبھی خوشی منانے کا وقت آئے گا، مگر یہ تحفہ یو اے ای کی طرف سے امید کا دروازہ کھول گیا۔
صبر کا صلہ
معت ابو حلیب نے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال سے منگیتر تھے اور شادی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے، مگر جنگ میں سب کچھ کھو بیٹھے۔
“میرا گھر، میرا سارا سامان، سب تباہ ہوگیا۔ میں شادی کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ اس اسکیم نے مجھے دوبارہ وہ مقام دیا جس کا میں خواب دیکھ رہا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کو آٹھ بار نقل مکانی کرنا پڑی، اس لیے شادی ایک ناممکن خواہش بن چکی تھی۔
غیر متوقع خوشی
28 سالہ حکمَت لیوا نے بتایا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان کا نام آئے گا۔
“مجھے پہلے ایک پیغام ملا تو لگا میں منتخب ہو گیا ہوں، پھر پتا چلا کہ قرعہ اندازی ہوگی۔ میں بغیر کسی توقع کے تقریب میں گیا — اور جب میرا نام ساتویں دلہے کے طور پر لیا گیا تو میں کھڑا بھی نہ ہو سکا… کئی بار دیکھا کہ واقعی میرا ہی نام ہے۔”
غزہ میں نئی زندگی کی بنیاد
یو اے ای کی اس انسان دوستی نے نہ صرف 54 نوجوانوں کو ان کی شادی کی خوشی دی بلکہ سینکڑوں نوجوانوں کی بنیادی ضروریات بھی پوری کیں۔
577 نوجوانوں کو ٹینٹ، امدادی پارسل اور بنیادی اشیا فراہم کی گئیں تاکہ جنگ سے بکھری زندگیوں میں کچھ سہارا میسر آ سکے۔
جنگ سے ٹوٹے خاندانوں کے لیے یہ اقدام امید، استحکام اور نئی زندگی کی طرف مضبوط قدم ثابت ہو رہا ہے۔







