
خلیج اردو
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے قریب دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں ایک اہلکار کی ہلاکت اور دوسرے کے شدید زخمی ہونے کے مقدمے میں گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکانوال نے منگل کے روز قتل کے الزام سے عدالت میں انکار کر دیا۔ 29 سالہ لکانوال گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے میں زخمی ہوا تھا اور اس نے اسپتال کے بستر سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہو کر اپنا مؤقف دیا۔
لکانوال پر فرسٹ ڈگری مرڈر کا الزام ہے، جس کے تحت ویسٹ ورجینیا سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ نیشنل گارڈ اہلکار سارہ بیک اسٹرم جاں بحق ہوئی تھیں، جبکہ دوسرے اہلکار اینڈریو وولف شدید زخمی حالت میں تاحال زیر علاج ہیں۔ 26 نومبر کو میٹرو اسٹیشن کے باہر معمول کی گشت کے دوران دونوں اہلکاروں پر حملہ کیا گیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق حملے کے وقت لکانوال نے فائرنگ کرتے ہوئے نعرہ لگایا، جس کے بعد موقع پر موجود ایک اور گارڈ اہلکار نے جوابی فائرنگ کر کے اسے زخمی اور قابو کر لیا۔ مجسٹریٹ جج رینی ریمونڈ نے لکانوال کو آئندہ سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے، جو 14 جنوری کو ہو گی۔
امریکی اٹارنی جنرل پم بانڈی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اس کیس میں موت کی سزا کا مطالبہ کرے گی۔ حکام کے مطابق لکانوال افغانستان میں سی آئی اے کے حمایت یافتہ ایک ’پارٹنر فورس‘ سے وابستہ رہا تھا اور 2021 میں امریکی انخلا کے بعد ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکہ منتقل ہوا تھا۔
امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم نے کہا ہے کہ شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ لکانوال ممکنہ طور پر امریکہ آنے کے بعد شدت پسندی کا شکار ہوا۔ وہ ریاست واشنگٹن میں مقیم تھا اور ملک بھر میں سفر کر کے حملہ کرنے واشنگٹن ڈی سی پہنچا، جس نے تھینکس گیونگ سے قبل امریکی عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
واقعے کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت نے افغان شہریوں کے تمام ویزوں کو معطل کر دیا اور تمام زیر التوا اسائلم کیسز کو روک دیا۔ لکانوال کو اپریل 2025 میں اسی حکومت کے دور میں پناہ دی گئی تھی، تاہم حکام اس کی ابتدائی آمد کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ’کمزور چیکنگ سسٹم‘ کو قرار دیتے ہیں۔
ادھر امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکساس میں ایک اور افغان شہری، 30 سالہ محمد داوود الکوزئی، کو دھماکا خیز مواد بنانے اور خود کش حملہ کرنے کی دھمکی دینے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس نے اپنی ویڈیو ٹک ٹاک، ایکس اور فیس بک پر شیئر کی تھی اور طالبان کی تعریف بھی کی تھی۔ ایف بی آئی کے مطابق عوام کی بروقت اطلاع پر اسے کوئی نقصان پہنچانے سے پہلے گرفتار کر لیا گیا۔
الکوزئی کو مجرمانہ دھمکی دینے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔







