
خلیج اردو
دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں چھوٹے ڈویلپرز کی غیر معمولی تعداد سامنے آ چکی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ان میں سے ہر کوئی سخت مقابلے میں زندہ نہیں رہ سکے گا۔ سمانا ڈویلپرز کے سی ای او عمران فاروق نے کہا کہ بڑے ڈویلپرز کو کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ وہ اپنی تیار کردہ ہر چیز فروخت کر لیتے ہیں، اصل مسئلہ ان چھوٹے ڈویلپرز کا ہے جو خود کو ڈویلپر سمجھ کر مارکیٹ میں آ تو جاتے ہیں مگر انہیں درکار وسائل، عالمی سطح پر پروڈکٹ کی تشہیر اور درست بزنس ماڈل کا فقدان ہوتا ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ غیر معمولی رفتار سے بڑھی ہے، جس کی وجہ نئے تارکین وطن، پیشہ ور افراد، سرمایہ کاروں اور امیر افراد کی بڑی تعداد میں آمد ہے۔ یہی مضبوط طلب ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے نئے ڈویلپرز کو بھی دبئی کی جانب کھینچ لائی ہے۔
کیونڈش میکس ویل کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 325 نئے منصوبے متعارف ہوئے، جن میں 87,900 سے زائد رہائشی یونٹس شامل تھے—یعنی روزانہ 490 یونٹس۔ عمران فاروق کے مطابق جب کسی بھی صنعت میں چھوٹے کھلاڑی بہت زیادہ ہو جائیں تو سب کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ بڑے ڈویلپرز کے پاس خطوں، شہروں اور عالمی مارکیٹس تک رسائی کے وسیع وسائل ہوتے ہیں۔
ایچ آر ای ڈیولپمنٹ کے سی ای او وسام بریڈی نے کہا کہ دبئی کی مارکیٹ بالکل اوپن ہے اور یہاں کامیابی کا دارومدار شہرت اور اعتماد پر ہے۔ ان کے مطابق اچھی شہرت پیسے سے زیادہ قیمتی ہے، اور مؤثر تعلقات، درست ڈیٹا اور کسٹمر کی دیکھ بھال ہی اصل سرمایہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 کے اختتام تک دبئی میں اپارٹمنٹس کی فروخت گزشتہ برس کے مقابلے میں بڑھ گئی۔ اس سال کے پہلے 10 ماہ میں 99,758 اپارٹمنٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 94,459 ہوئے تھے۔ فاروق کے مطابق موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2025 میں 1,20,000 اپارٹمنٹس فروخت ہو سکتے ہیں، جو آف پلان سیل میں 27 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
وسام بریڈی کے مطابق یو اے ای اور دبئی کی مارکیٹ اس وقت "اسٹریٹجک گروتھ” کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے دوران مؤثر حکومتی حکمت عملی اور گولڈن ویزا پالیسی نے دبئی میں طویل مدتی رہائش کو فروغ دیا ہے، جس کی وجہ سے لوگ صرف اپارٹمنٹس نہیں بلکہ گھر خریدنے کے خواہش مند ہیں۔







