
خلیج اردو
شارجہ پولیس نے بارہ سال کی طویل جدائی کے بعد ایک ماں کو اس کے بیٹے سے ملا دیا۔ خاندانی تنازع نے ماں اور نومولود بچے کے درمیان ہر رابطہ ختم کر دیا تھا، جبکہ مالی مشکلات کے باعث وہ 2013 میں متحدہ عرب امارات چھوڑنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔ ملک سے باہر رہ کر بھی انہوں نے برسوں اپنے بیٹے کی تلاش جاری رکھی، مگر اس کی صحت، تعلیم اور رہائش کے بارے میں کوئی معلومات نہ مل سکیں۔
تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد وہ دوبارہ یو اے ای واپس آئیں اور شارجہ پولیس سے رابطہ کیا۔ پولیس نے فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس میں سماجی ماہرین بھی شامل تھے۔ ٹیم نے تحقیقات کے بعد نوجوان کی موجودگی اور حالات کی تصدیق کی اور مختصر وقت میں انہیں ڈھونڈ نکالا۔
حکام کی کوششوں کے نتیجے میں ماں اور بیٹے کی وہ ملاقات ممکن ہوئی جس کا انتظار ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تھا۔ اس جذباتی ملاقات نے شارجہ پولیس کے اس انسانی کردار کو اجاگر کیا جو خاندانوں کے تحفظ اور بچوں کے حقوق کی نگہبانی میں سرخرو نظر آتا ہے۔
کمیونٹی پروٹیکشن اینڈ پری وینشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر احمد المری کے مطابق یہ کیس یو اے ای کی قیادت کی ان انسان دوست اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو خاندانی استحکام اور سماجی تعاون کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے حساس نوعیت کے معاملات میں ٹیموں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہا اور کہا کہ امید بحال کرنا اور انسانی تکلیف کا ازالہ کرنا شارجہ پولیس کے بنیادی مشن میں شامل ہے۔
اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یو اے ای کی قیادت نے ہمیشہ انسانیت کو اولین ترجیح دی ہے، جس کا مقصد ہمدردی، سماجی ہم آہنگی اور فلاحِ عامہ کو مضبوط بنانا ہے۔ شارجہ پولیس کے مطابق کسی بھی فرد کی تکلیف کا خاتمہ صرف سرکاری ذمے داری نہیں بلکہ ان اخلاقی اقدار کا حصہ ہے جو ان کے روزمرہ کام کا بنیادی اصول ہیں۔ جب ایسی کوشش کسی دکھ کے خاتمے اور امید کے دروازے کھولنے کا باعث بنے تو یہ اس قوم کی خدمت کرنے والے کسی بھی ادارے کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔







