
خلیج اردو
ابوظبی کے یاس آئی لینڈ پر فارمولا ون ایتھاد ایئرویز ابوظبی گرینڈ پری کے دوران دنیا بھر سے موٹر اسپورٹس شائقین کی آمد نے ہوٹل ریٹس کو تاریخی حد تک بڑھا دیا ہے جبکہ پارکنگ کی پابندیوں نے مقامی رہائشیوں اور سیاحوں دونوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ آخری لمحات میں کمرہ بک کرانا اور قریب جگہ پر گاڑی کھڑی کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
یاس آئی لینڈ کے ڈبلیو ہوٹل میں جمعرات 1 دسمبر سے پیر 8 دسمبر تک کے ایف ون اسٹے پیکجز کے مطابق ’اسپیکٹیکیولر روم‘ کی سنگل اوکیوپینسی کی قیمت 90 ہزار درہم اور ڈبل اوکیوپینسی 92 ہزار درہم تک پہنچ گئی۔ ’فینٹاسٹک سوئٹ‘ 110 ہزار اور 112 ہزار درہم میں جبکہ ’فیبیولس واو، ای واو سوئٹ‘ کی قیمت درخواست پر دستیاب ہے۔ تمام کمروں کے ساتھ آفٹر ریس کنسرٹس تک رسائی مفت دی جا رہی ہے اور بعض ریس ویو کمروں سے براہ راست ریس بھی دیکھی جا سکتی ہے، جس سے مہمانوں کو علیحدہ ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اگر کوئی مہمان براہ راست فرنٹ ڈیسک سے رابطہ کرے تو بہتر آفرز ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک تین راتوں کا پیکج، جس کی اصل قیمت تقریباً 67 ہزار 500 درہم تھی، رعایت دے کر 62 ہزار 600 درہم میں دیا گیا جس میں پارکنگ بھی شامل تھی۔ اسی دوران ایک اسٹینڈرڈ نان سرکٹ ویو کمرہ 45 ہزار درہم تک دستیاب تھا۔ ایک 21 سالہ انجینئر ناصر کے مطابق سب سے سستا کمرہ جو انہیں ملا وہ بھی ایک رات کا 15 ہزار درہم کا تھا۔
قریب موجود دیگر ہوٹلوں نے بھی تین راتوں کے لیے غیر معمولی بلند ریٹس جاری کیے، جن میں ہلٹن یاس آئی لینڈ 48 ہزار درہم سے زائد، مارینا میں موجود سپر یاٹ 32 ہزار درہم، میریٹ ال فرسان 18 ہزار 855 درہم، اور الوفت ابوظبی 13 ہزار 405 درہم شامل ہیں۔ یہی ہوٹل فروری میں محض چند ہزار درہم میں دستیاب ہوں گے جس سے ایف ون ویک اینڈ کی مانگ کا دباؤ واضح ہوتا ہے۔
پارکنگ کے حوالے سے یاس آئی لینڈ آنے والوں کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈبلیو ہوٹل نے صرف پارکنگ کے لیے جمعہ کے روز دن میں 1,200 درہم اور رات 7 بجے سے 2 بجے تک 1,400 درہم، ہفتہ کو دن میں 2,100 درہم اور رات میں 2,500 درہم، جبکہ اتوار کو دن میں 3,000 اور رات میں 3,500 درہم وصول کیے۔ زیادہ تر ہوٹلوں اور مقامات کی پارکنگ صرف پاس رکھنے والوں کے لیے مخصوص رہی، جس کے باعث عام ڈرائیورز کو یاس مال کے فیشن ایونیو پارکنگ میں گاڑیاں کھڑی کر کے آئی ٹی سی شٹل کے ذریعے سفر کرنا پڑا۔
کئی غیر ریس مقامات پر بھی پارکنگ بلاک رہی جن میں یاس بے بھی شامل ہے۔ متعدد مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ عام جم، ریستوران اور دیگر سہولتوں تک پہنچنے میں بھی دشواریاں پیش آئیں۔
انٹیگریٹڈ ٹرانسپورٹ سنٹر (آئی ٹی سی) کے 2025 موبیلٹی پلان کے مطابق 82 پبلک بسیں یاس مال اور وارنر برادرز کار پارک سے سرکٹ، ہوٹلوں اور تفریحی مقامات تک شٹل سروس فراہم کر رہی ہیں جبکہ تقریباً 3 ہزار ٹیکسیاں اور 15 خودکار گاڑیاں مخصوص روٹس پر چلائی جا رہی ہیں۔







