خلیج اردو
دبئی: دبئی پولیس نے یورپ کے سب سے خطرناک سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں سے ایک کو بڑا دھچکا پہنچاتے ہوئے بین الاقوامی آپریشن ’’حارث‘‘ کے تحت گینگ کے سرغنے مارکو جوجیویچ کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی یوروپول، سربیا کی وزارت داخلہ اور اسپین کی نیشنل پولیس کے ساتھ مشترکہ آپریشن کا حصہ تھی، جس میں ’’وراچارسی‘‘ یا ’’وِچ کرافٹرز‘‘ کے نام سے مشہور گروہ کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ نیٹ ورک برسوں سے بالکان میں خونی جھڑپوں، ٹارگٹ کلنگ، آگ زنی اور بم حملوں میں ملوث تھا۔ حکام کے مطابق حریف گروہوں ’’کاواچ‘‘ اور ’’سکالجاری‘‘ کے درمیان جاری خونی گینگ وار 2014 سے اب تک مختلف ممالک میں تقریباً 60 اموات کا سبب بن چکی ہے۔
**دبئی سے سرغنہ کی گرفتاری**
سربین تفتیش کاروں نے ’’وراچارسی‘‘ گروہ کے سربراہ مارکو جوجیویچ کو 16 اکتوبر 2025 کو بیلگریڈ میں ایک قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔ انٹرپول ریڈ نوٹس کے تحت مطلوب یہ شخص دبئی میں رہائش پذیر تھا۔ دبئی پولیس نے وزارت داخلہ اور دبئی پبلک پراسیکیوشن کے تعاون سے بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا، جسے گینگ کے کمانڈ اسٹرکچر کو توڑنے میں فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
**تین ممالک میں مشترکہ چھاپے**
سربیا میں حکام نے 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کرتے ہوئے بیلگریڈ سمیت مختلف علاقوں میں 22 مقامات پر چھاپے مارے، جہاں سے انکرپٹڈ فونز، لگژری گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں اور تقریباً تین لاکھ یورو نقدی برآمد ہوئی۔
اسپین میں ویلینسیا اور بارسلونا میں مزید دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔
دبئی میں ہونے والی گرفتاری یوروپول، یوروجسٹس اور سربین حکام کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت عمل میں آئی، اور تمام شواہد عدالتی کارروائی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
دبئی پولیس کی عالمی سطح پر تعریف
یوروپول اور سربین و اسپین حکام نے دبئی پولیس کے کردار کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلیجنس شیئرنگ، تحقیقاتی معاونت اور عملی کارروائی میں دبئی پولیس کی مہارت کامیابی کی کلید ثابت ہوئی۔ حکام نے کہا کہ متحدہ عرب امارات منظم اور سرحد پار جرائم کے خلاف اپنی پالیسی کے تحت عالمی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اسپین کے ساتھ مضبوط تعاون
دبئی پولیس کے مطابق حالیہ برسوں میں اسپین کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تعاون نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ دونوں جانب سے 26 کیسز میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 29 ملزمان گرفتار ہوئے جبکہ چار کی کامیاب حوالگی بھی عمل میں آئی، جس سے بین الاقوامی عدالتی تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔







