
خلیج اُردو
بھارتی سپریم کورٹ نے خواتین سے متعلق جنسی جرائم کے مقدمات میں ماتحت عدالتوں کی غیر حساس زبان اور غیر مناسب تبصروں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ایسے ریمارکس نہ صرف متاثرہ خواتین اور اُن کے خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں بلکہ یہ پورے معاشرے پر خوفناک اثرات مرتب کرتے ہیں۔
یہ ردِعمل الہ آباد ہائی کورٹ کے اُس متنازع فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ نابالغ لڑکی کے پستان پکڑنا، شلوار کی ڈوری توڑنا اور کپڑے اُتارنے کی کوشش کرنا ’ریپ کی کوشش‘ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس فیصلے نے پورے بھارت میں شدید تنقید کو جنم دیا، جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ کیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ اس طرح کے ریمارکس متاثرین کو مقدمات واپس لینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ عدالت نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کیس کا ٹرائل حسبِ سابق جاری رہے گا۔
سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ مختلف عدالتوں کے فیصلوں میں خواتین کے لیے ’ناجائز بیوی‘، ’وفادار مالکن‘، ’سکن ٹو سکن ٹچ جرم نہیں‘ اور نابالغ کو اپنی خواہشات پر قابو رکھنے جیسے الفاظ استعمال کیے گئے، جو عدالتی وقار اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ عدالت نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ ایسے جملے کسی مرد کے لیے استعمال نہیں ہوتے، اس لیے خواتین سے متعلق عدالتی فیصلوں میں بھی ان کی کوئی گنجائش نہیں۔
سپریم کورٹ نے یاد دلایا کہ اس نوعیت کی زبان خواتین کی عزتِ نفس اور آئین کے آرٹیکل 21 میں دی گئی باوقار زندگی کے حق کے خلاف ہے۔ عدالت نے ججوں اور وکلا کے لیے حال ہی میں جاری کردہ ’ہینڈ بک آن کامبیٹنگ جینڈر سٹیریو ٹائپس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنسی جرائم کے مقدمات میں حساس، ذمہ دارانہ اور غیر جانبدار زبان کے استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔







