
خلیج اردو
بیلجیم کی معروف اسکائی ڈائیور میگالی فولکنر براٖف نے دبئی کے آسمانوں میں معلق ایک جھولے سے 1,000 فٹ کی بلندی پر بیٹھ کر خطرناک انداز میں چھلانگ لگا کر دنیا بھر میں دھوم مچا دی۔ یہ اسٹنٹ صرف ایک کرتب نہیں تھا بلکہ دبئی کے ساتھ ان کے 15 سالہ پروفیشنل اور جذباتی تعلق کا اظہار بھی تھا۔ براٖف کے مطابق انہیں اس خصوصی موقع کے لیے منتخب کیا جانا "بے حد جذباتی اور حیران کن” تھا، کیونکہ وہ 15 سال پہلے دبئی میں ہونے والی پہلی اسکائی ڈائیونگ ٹیم کا حصہ تھیں۔
اس اسٹنٹ کی ویڈیو دبئی کے ولی عہد شیخ ہمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے بھی شیئر کی، جس میں براٖف سرخ دلکش لباس میں ایک خاص طور پر تیار کیے گئے لکڑی کے جھولے پر بیٹھی اور کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ دنیا کا پہلا اسٹنٹ تھا جو کسی شہری منظرنامے کے اوپر ایک پاورڈ ایئر شپ کے ذریعے انجام دیا گیا۔ براٖف کا کہنا ہے کہ اس بلندی سے دبئی کے مناظر ایسے نظر آتے ہیں جیسے کوئی انسان پوسٹ کارڈ کے اندر زندہ ہو۔
میگالی براٖف نے بتایا کہ یہ اسٹنٹ صرف فنی نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی بہت مشکل تھا۔ کئی دن تک سورج طلوع ہونے کے وقت شوٹنگ کی گئی، جس کے باعث وہ اکثر جسمانی تکلیف محسوس کرتی تھیں۔ جھولے پر کھڑے ہونے کے لیے انتہائی مضبوط مسلز کا استعمال ضروری تھا، لیکن فوکس نے ہر تھکن کو بھلا دیا۔ ان کے مطابق سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب پہلی مرتبہ سمندر اور دبئی کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان طلوع ہوتے سورج کے ساتھ وہ ہوا میں جھول رہی تھیں۔
سرخ لباس کے بارے میں براٖف نے بتایا کہ یہ انہوں نے خود ڈیزائن کیا۔ مقامی ثقافت کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے لمبی آستینوں اور مکمل ڈھانپنے والا لباس تیار کیا۔ دائیں جانب ہلکی سی کٹ اس لیے رکھی گئی کہ پیراشوٹ کھینچنے میں آسانی ہو جبکہ پچھلی جانب لباس کو لمبا رکھا تاکہ ہوا میں خوبصورت حرکت پیدا ہو۔ کپڑے کے انتخاب میں بھی انہیں کئی دن لگے کیونکہ صحیح فیبرک کا انتخاب ہوا کے دباؤ میں غیر متوقع ردعمل سے بچنے کے لیے ضروری تھا۔
براٖف کی زندگی بھی کسی ایڈونچر سے کم نہیں۔ اسکائی ڈائیونگ انہیں اپنے شوہر اسٹیو سے محبت کے بعد متعارف ہوئی۔ 2011 میں دونوں نے شادی کے دن اسکائی ڈائیونگ اسٹنٹ کیا۔ آج وہ بیلجیم میں ایک انڈور اسکائی ڈائیونگ سینٹر چلاتے ہیں اور عالمی سطح پر مختلف پروجیکٹس پر کام کرتے ہیں۔ براٖف کا مقصد ہمیشہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو اس میدان میں لانا رہا ہے اور دبئی کے اس اسٹنٹ کے ذریعے بھی وہ خواتین اور لڑکیوں کو اس کھیل کی طرف مائل کرنے کی امید رکھتی ہیں۔







