
خلیج اردو: متحدہ عرب امارات میں اسکول داخلے کی عمر سے متعلق قانون میں تبدیلی کو والدین نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے برسوں سے جاری غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے اور اب بچوں کو بلاوجہ پورا تعلیمی سال ضائع نہیں کرنا پڑے گا۔
یو اے ای حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 2026-2027 کے تعلیمی سال سے ستمبر میں شروع ہونے والے اسکولوں میں کے جی ون میں داخلے کے لیے عمر کی آخری تاریخ 31 اگست کے بجائے 31 دسمبر ہوگی۔ اس فیصلے سے ان خاندانوں کو خاص طور پر ریلیف ملا ہے جن کے بچوں کی پیدائش 31 اگست کے بعد ہوتی تھی اور انہیں ایک سال تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اردن سے تعلق رکھنے والے یو اے ای میں مقیم موسیٰ عبدالکریم نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے خاندان کو وطن واپس بھیجنے پر غور کر رہے تھے، مگر اس فیصلے نے ان کی خاندانی زندگی کو بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا بیٹا ایک سال ضائع کیے بغیر تعلیم حاصل کر سکے گا۔
شارجہ سے تعلق رکھنے والی والدہ مریم، جن کے بیٹے کی پیدائش ستمبر کے آغاز میں ہوئی تھی، نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ ان کا بچہ ایک سال بعد اسکول جائے، اگرچہ ان کی خواہش تھی کہ یہ فیصلہ پہلے نافذ ہو جاتا کیونکہ کئی بچے پہلے ہی ایک سال ضائع کر چکے ہیں۔
عجمان کی رہائشی خولہ نے اس فیصلے کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کے اپنے بچے اس سے متاثر نہیں ہوئے، مگر انہوں نے کئی ماؤں کو اس مسئلے کی وجہ سے ذہنی اذیت میں مبتلا دیکھا ہے۔
ماہرین تعلیم نے بھی فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ دبئی کے الشروق کنڈرگارٹن کی ٹیچر فاطمہ الرام نے کہا کہ تعلیمی نقطہ نظر سے یہ فیصلہ والدین اور بچوں دونوں کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ اس عمر میں بچوں کے لیے سماجی، ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے کنڈرگارٹن میں داخلہ نہایت ضروری ہوتا ہے۔
نئے قانون کے تحت ستمبر سے تعلیمی سال شروع کرنے والے اسکولوں میں داخلے پر اس کا اطلاق ہوگا، جبکہ اپریل سے شروع ہونے والے اسکولوں کے لیے 31 مارچ کی تاریخ برقرار رہے گی۔ وزارت تعلیم کے مطابق موجودہ طلبہ اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے اور اس کا مقصد مختلف نصاب کے درمیان داخلہ نظام کو منصفانہ اور یکساں بنانا ہے۔
یہ فیصلہ وفاقی قومی کونسل میں گزشتہ برس ہونے والی بحث کے بعد سامنے آیا، جہاں بچوں کی پیدائش سال کے آخری مہینوں میں ہونے کے باعث والدین کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی گئی تھی، اور اب اس اعلان کو ان خدشات کا مثبت جواب قرار دیا جا رہا ہے۔







