
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک وفاقی فرمان قانون کے تحت نیشنل میڈیا اتھارٹی کے قیام اور اس کے ضوابط کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد قومی میڈیا کے نظام کو فروغ دینا، اسے جدید میڈیا رجحانات سے ہم آہنگ کرنا اور علاقائی و عالمی سطح پر یو اے ای کے میڈیا کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
فرمان کے تحت ایک وفاقی عوامی اتھارٹی قائم کی جائے گی جو کابینہ سے منسلک ہوگی، اور اسے مکمل قانونی حیثیت، مالی و انتظامی خودمختاری اور قانونی صلاحیت حاصل ہوگی۔ نئی نیشنل میڈیا اتھارٹی ایمریٹس میڈیا کونسل، نیشنل میڈیا آفس اور ایمریٹس نیوز ایجنسی (وام) کی جگہ لے گی۔
نیشنل میڈیا اتھارٹی کو ریاست کی اسٹریٹجک میڈیا سمت اور پیغامات تجویز کرنے، میڈیا اداروں کے ساتھ پالیسیوں اور قومی بیانیے کو ہم آہنگ کرنے، اور یو اے ای کے تشخص کو بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اتھارٹی میڈیا بیانیوں کی نگرانی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر میڈیا بحرانوں سے نمٹنے کا کردار بھی ادا کرے گی۔
اتھارٹی میڈیا اداروں اور سرگرمیوں، بشمول ڈیجیٹل میڈیا، کے لیے قانون سازی کی تجاویز دے گی، مواد کے معیارات مقرر کرے گی، اور ملک بھر میں شائع، مطبوعہ اور نشر ہونے والے تمام مواد کی نگرانی کرے گی، جس میں فری زونز بھی شامل ہوں گے۔
اس کے دائرہ اختیار میں میڈیا پیشہ ور افراد اور غیر ملکی نامہ نگاروں کی رجسٹریشن اور منظوری بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وام کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اسے سرکاری خبروں کی اشاعت، ترسیل اور ترجمے کے مرکزی چینل کے طور پر مضبوط کیا جا سکے، اور ملکی و بین الاقوامی خبروں کی نشریات اور استعمال کو منظم کیا جا سکے۔
نیشنل میڈیا اتھارٹی صحافتی اصولوں اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے مطابق میڈیا اداروں کو مقامی اور بین الاقوامی خبریں، مضامین، رپورٹس اور تصاویر بھی فراہم کرے گی، تاکہ قومی میڈیا کے معیار اور پیشہ ورانہ سطح کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔







