
خلیج اردو
یو اے ای میں اسکول داخلے کے لیے عمر کی حد تبدیل کرنے کے فیصلے سے والدین کو کنڈرگارٹن اور گریڈ ون میں بچوں کے داخلے کے حوالے سے زیادہ لچک حاصل ہو گی، تاہم ماہرینِ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ صرف عمر کو بچے کی اسکول کے لیے تیاری کا واحد پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ نئی پالیسی کے تحت داخلے کے لیے کٹ آف تاریخ 31 دسمبر مقرر کی گئی ہے، جس کی منظوری ایجوکیشن، ہیومن ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسل نے دی ہے، اور اس کا اطلاق 2026-2027 کے تعلیمی سال سے نئے داخلوں پر ہو گا۔ اگست یا ستمبر میں تعلیمی سیشن شروع کرنے والے اسکول اور کنڈرگارٹن اس پالیسی کے تحت ہوں گے، جبکہ اپریل میں سیشن شروع کرنے والے اداروں کے لیے 31 مارچ کی تاریخ برقرار رہے گی، اور موجودہ طلبہ اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔
تعلیمی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ابتدائی تعلیم تک منصفانہ رسائی کو یقینی بنانا، داخلے کے معیار کو یکساں بنانا اور عالمی تعلیمی نظام اور قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اسکولوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس وسیع تر سوچ کی عکاسی کرتی ہے جس میں صرف عمر کے بجائے ہر بچے کی انفرادی تیاری کو اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ نئی پالیسی کے تحت کم عمر بچے تقریباً ایک سال بڑے ہم جماعتوں کے ساتھ ایک ہی کلاس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
جیمز ایجوکیشن کے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ نئی پالیسی کے باعث بعض کلاسوں میں تین سالہ بچے چار سال چار ماہ کے بچوں کے ساتھ ہوں گے، جہاں نشوونما کے فرق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کم عمر بچے اب بھی بنیادی زبان اور سماجی مہارتیں سیکھ رہے ہوتے ہیں، جبکہ بڑے بچے زیادہ پیچیدہ گفتگو اور گروہی کھیل میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس فرق کو تدریسی حکمتِ عملی اور معاون عملے کی تیاری میں شامل نہ کیا جائے تو سیکھنے اور سماجی میل جول متاثر ہو سکتا ہے۔
جیمز نے مزید کہا کہ کنڈرگارٹن اور گریڈ ون میں بچوں کی جانچ اب بھی مشاہدے، تدریجی اسیسمنٹ، کھیل کے ذریعے سیکھنے، ابتدائی معاونت اور پورٹ فولیو کے ذریعے کی جائے گی تاکہ ہر بچے کی پیش رفت کو مؤثر انداز میں جانچا جا سکے، جبکہ والدین اور اساتذہ کے درمیان مسلسل تعاون کو بھی کلیدی حیثیت حاصل رہے گی۔
دیگر نجی تعلیمی اداروں نے بھی اس پالیسی کو والدین کے لیے مثبت انتخاب قرار دیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ اسے ہر بچے پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جانا چاہیے۔ تعلیم گروپ نے کہا کہ 31 دسمبر کی کٹ آف تاریخ خاندانوں کے لیے خوش آئند لچک فراہم کرتی ہے اور بین الاقوامی طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے، لیکن اسکول کے لیے تیاری کا انحصار صرف تعلیمی صلاحیت پر نہیں بلکہ جذباتی پختگی، سماجی نشوونما، اعتماد اور خودمختاری پر بھی ہوتا ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر لینا حداد کے مطابق کم عمر بچوں کو اگر جذباتی طور پر تیار ہوئے بغیر منظم تعلیمی ماحول میں داخل کر دیا جائے تو انہیں جذباتی نظم، اعتماد اور خودمختاری میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، کیونکہ اس عمر میں دماغ خود کو کنٹرول کرنے کی بنیادی صلاحیتیں تشکیل دے رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول کے لیے تیاری اس بات سے جڑی ہے کہ بچہ تعلیمی تقاضوں سے کیسے نمٹتا ہے، نہ کہ وہ کتنی جلدی انہیں پورا کر سکتا ہے، اس لیے والدین کو بچے کی جذباتی مضبوطی، معمولات سے ہم آہنگی، بات چیت کی صلاحیت اور سماجی اعتماد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔






