
خلیج اردو
دبئی: ایک نئی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں تیزی سے ترقی کرنے والی پراپرٹی مارکیٹ ریاض نہیں بلکہ دمام بن کر سامنے آئی ہے۔ سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں دمام میں تقریباً 3 ہزار جائیدادی سودے ہوئے جن کی مجموعی مالیت 3.2 ارب سعودی ریال رہی، جو سالانہ بنیادوں پر 60 فیصد اور دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض اور جدہ میں بڑھتی قیمتوں کے باعث جہاں خریداروں کو مشکلات کا سامنا ہے، وہیں دمام نسبتاً کم قیمتوں کے باعث صارفین اور سرمایہ کاروں دونوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاض بدستور مجموعی قدر کے لحاظ سے سب سے بڑا بازار ہے، جہاں 13 ہزار سودوں کے ذریعے 17.6 ارب سعودی ریال کی لین دین ہوئی، تاہم یہ سالانہ بنیادوں پر 44 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے، اگرچہ سہ ماہی بنیاد پر 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جدہ میں 7 ہزار 500 سودے ہوئے جن کی مالیت 8.7 ارب سعودی ریال رہی، جو دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں حجم میں 10 فیصد اور قدر میں 9 فیصد اضافہ ہے، مگر سالانہ بنیاد پر 19 فیصد کمی دیکھی گئی۔
دمام میں اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 5.8 فیصد جبکہ ولاز کی قیمتوں میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کرایوں میں اپارٹمنٹس کے لیے 4.8 فیصد اور ولاز کے لیے 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کیونڈش میکسویل کی سعودی عرب رپورٹ میں پہلی بار دمام کو نمایاں مقام دیا گیا ہے، جہاں سستی جائیداد نے مانگ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاض میں 2024 کے دوران قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث فروخت اور کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد حکومت نے رہائشی اخراجات میں کمی لانے کے لیے پانچ سالہ کرایہ منجمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جدہ میں قیمتیں نسبتاً مستحکم ہیں اور دمام سرمایہ کاری کے لیے ایک نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
ریاض میں اپارٹمنٹس کی اوسط قیمت 6 ہزار 160 سعودی ریال فی مربع میٹر تک پہنچ گئی جو سالانہ بنیاد پر 7.5 فیصد اضافہ ہے، جبکہ ولاز کی قیمتیں 5 ہزار 500 سعودی ریال فی مربع میٹر ہو گئیں جن میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا۔ کرایوں میں بھی اپارٹمنٹس کے لیے 11.8 فیصد اور ولاز کے لیے 10.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ شہر میں رواں سال کے پہلے نو ماہ میں 10 ہزار یونٹس مکمل کیے گئے جبکہ چوتھی سہ ماہی میں مزید 6 ہزار یونٹس متوقع ہیں، اور 2026 تا 2027 کے دوران 57 ہزار مزید یونٹس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 سے غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت اور وائٹ لینڈ ٹیکس کے نفاذ سے مارکیٹ میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے، جبکہ ویژن 2030 کے منصوبے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سعودی عرب کی بڑی شہروں میں جائیداد کے شعبے کو سہارا دیتی رہے گی۔






