متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں کرسمس کی سجاوٹ، ننھا گاؤں، ہاٹ کوکو بار اور ونٹر ونڈر لینڈ گھروں کی زینت بن گئے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کرسمس کے موقع پر بعض افراد سادہ انداز میں روشن درخت اور چند سجاوٹی ہاروں پر اکتفا کرتے ہیں، تاہم کئی رہائشی ایسے بھی ہیں جو تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھروں کو فلمی مناظر سے مشابہ شاندار ونٹر ونڈر لینڈ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس برس تہواروں کا موسم ان افراد کے لیے ایک ایسا موقع بن گیا جنہوں نے اپنے گھروں کو منفرد اور دلکش انداز میں سجایا۔
ریٹائرڈ ہیلی کاپٹر پائلٹ ٹونی ولیمز نے برسوں کے دوران ننھی ٹرینوں اور چھوٹی عمارتوں کے ماڈلز جمع کیے اور بالآخر انہیں یکجا کر کے اپنے ڈرائنگ روم کے عین درمیان ایک مکمل ننھا کرسمس گاؤں بنا دیا۔ گزشتہ پانچ برسوں سے یہ ان کی روایت بن چکی ہے کہ وہ متحرک ٹرینوں، روشنیوں اور سوئچز کے ساتھ ایک چھوٹا سا قصبہ ترتیب دیتے ہیں، جن میں سے بعض حصے انہوں نے خود مرمت کیے۔ ٹونی ولیمز کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد کسی مصروفیت کی تلاش نے انہیں اس شوق کی طرف راغب کیا، بچپن میں چیزیں بنانے کا شوق دوبارہ زندہ ہوا اور یوں ہر سال ایک ننھا شہر تشکیل پاتا گیا۔
دوسری جانب کنیسا مولونہ، جو عموماً تعطیلات برفباری والے ممالک میں گزارتی تھیں، اس بار اپنے بچوں کے لیے برف کو خود گھر لے آئیں۔ انہوں نے اپنے صحن کو مکمل طور پر ونٹر ونڈر لینڈ میں بدل دیا، جہاں دوسری منزل سے نصب مشین کے ذریعے مصنوعی برف گرنے کا منظر پیدا کیا گیا، جو باہر سے دیکھنے پر کسی اسنو بال کے اندرونی منظر جیسا محسوس ہوتا ہے۔ یورپ میں گزارے گئے سرد موسم کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس برس انہوں نے کرسمس کا احساس برقرار رکھنے کے لیے سجاوٹ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اگرچہ ان کے بچے گھر کی اس شاندار تبدیلی پر زیادہ حیران نہ ہوئے، جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شاید دبئی میں بچے غیرمعمولی چیزیں دیکھ دیکھ کر عادی ہو چکے ہیں، مگر اس سب سے زیادہ خوشی انہیں خود محسوس ہو رہی ہے۔
اسی طرح برنا ریمی نے مذہبی طور پر کرسمس نہ منانے کے باوجود اس موسم کو خاص بنانے کے لیے ایک منفرد خیال اپنایا۔ انہوں نے کرسمس ٹری کے بجائے ایک ہاٹ کوکو بار تیار کیا جو ایک چھوٹی ہاٹ چاکلیٹ شاپ کا منظر پیش کرتا ہے، جہاں مختلف کوکو مکس، مارش میلوز، پیپرمنٹ بارک، جنجر بریڈ اور موسمی سجاوٹ شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد بچوں کو مختلف ثقافتوں اور تہواروں سے روشناس کرانا ہے کیونکہ امارات میں رہتے ہوئے وہ کئی تہوار دیکھتے اور ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
پیشہ ور ڈیکوریٹر الیساندرا گوٹرٹ ویانا کے لیے دسمبر کا مہینہ غیرمعمولی طور پر مصروف رہا۔ وہ دیگر افراد کے گھروں کو سجانے میں اتنی مصروف رہیں کہ اپنے گھر کی سجاوٹ کے لیے وقت ہی نہ نکال سکیں۔ صرف اس دسمبر میں انہوں نے چار بڑے گھروں کی سجاوٹ مکمل کی، جن میں سے بعض پر ایک سے دو دن جبکہ ایک گھر پر تین دن صبح سے رات تک کام کرنا پڑا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button