
خلیج اردو کے مطابق ابوظہبی انوائرنمنٹ ایجنسی (ای اے ڈی) نے مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ امیجری کی مدد سے غیر قانونی طور پر کچرا پھینکنے کی نشاندہی کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کچرا مینجمنٹ کو بہتر بنانا، ماحولیاتی نگرانی کو مضبوط کرنا اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے جس میں اے آئی ماڈلز کو سیٹلائٹ ڈیٹا کے ساتھ جوڑ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے روایتی فیلڈ انسپیکشن کے بجائے ایک ایسا خودکار نظام متعارف کرایا گیا ہے جو ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ممکنہ خلاف ورزیوں کی پیشگی نشاندہی کر سکتا ہے۔
ای اے ڈی کی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ابوظہبی کے پائیدار ترقی اور ڈیجیٹل جدت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور یو اے ای آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسٹریٹیجی 2031 اور ابوظہبی انوائرنمنٹل سنچریئنل 2071 پلان سے ہم آہنگ ہے۔
پائلٹ منصوبہ العین کے علاقے البقریہ میں نافذ کیا گیا جہاں اس نے 90 فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ 150 غیر قانونی کچرا پھینکنے کے مقامات کی نشاندہی کی، جبکہ روایتی طریقہ کار کے تحت صرف 43 مقامات سامنے آئے تھے۔ یہ نظام کچرے کی اقسام، مقامات کے سائز میں تبدیلی اور مدت کا بھی ریکارڈ رکھتا ہے، جس سے فوری کارروائی اور مؤثر صفائی ممکن ہو جاتی ہے۔
ای اے ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انوائرنمنٹل کوالٹی سیکٹر انجینئر فیصل الحمادی کے مطابق اس منصوبے سے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف کچرا ہٹانے میں مدد ملتی ہے بلکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام اور طویل المدتی ماحولیاتی تحفظ کو بھی تقویت ملتی ہے۔
پائلٹ منصوبے کی کامیابی کے بعد ای اے ڈی نے اسے پورے امارت میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ایک مرکزی اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا۔ یہ اقدام ابوظہبی کی وسیع تر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا حصہ ہے، جس میں ٹی اے ایم 4.0 گورنمنٹ پلیٹ فارم اور 2025 تا 2027 ڈیجیٹل اسٹریٹیجی شامل ہے، جس کا ہدف ابوظہبی کو دنیا کی پہلی اے آئی نیٹو حکومت بنانا ہے۔







