
خلیج اردو
دبئی: نئے سال 2026 کی آمد کے موقع پر متحدہ عرب امارات بھر میں شاندار آتش بازی، ڈرون شوز اور بڑے پیمانے پر تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث دبئی سمیت مختلف امارات میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات، مرحلہ وار سڑکوں کی بندش، پبلک ٹرانسپورٹ میں خصوصی انتظامات اور موسم سے متعلق ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ دبئی پولیس نے شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر کسی بھی جگہ لاوارث بیگ یا مشکوک سامان نظر آئے تو فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ تقریبات کے دوران محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
برج خلیفہ اور اس کے اطراف علاقوں میں ہزاروں افراد دوپہر سے ہی جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں، کئی شہری بہترین مقام حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں پہلے پہنچ چکے ہیں۔ ڈاؤن ٹاؤن دبئی میں سیکیورٹی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، عارضی واش رومز قائم کیے گئے ہیں اور شام تین بجے کے بعد مختلف سڑکیں مرحلہ وار بند کی جا رہی ہیں۔ دبئی پولیس اور آر ٹی اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تقریباتی مقامات پر جلد پہنچیں، راستوں کی پیشگی منصوبہ بندی کریں اور ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔
روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق نئے سال کی رات کے لیے شہر بھر میں 40 سے زائد مقامات پر 48 آتش بازی کے مظاہرے ہوں گے، جن کے لیے ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کا جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ دبئی میٹرو 43 گھنٹے تک بلا تعطل سروس فراہم کرے گی، جبکہ مخصوص علاقوں میں بس سروس معطل کر کے مسافروں کو میٹرو استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جمیرا بیچ ریزیڈنس کو شام چار بجے سے پیدل زون قرار دیا گیا ہے اور صرف سرکاری ٹیکسیاں محدود راستوں پر چل سکیں گی، جبکہ بلیو واٹرز آئی لینڈ تک رسائی گنجائش مکمل ہونے پر بند کر دی جائے گی۔
برج خلیفہ کی آتش بازی دیکھنے کے لیے مہنگے ٹکٹوں کے بغیر بھی سرکاری فری ویونگ ایریاز دستیاب ہیں، تاہم برج پارک جیسے مخصوص مقامات پر پری بُکنگ کے ذریعے داخلہ دیا جا رہا ہے۔ آر ٹی اے کی جانب سے خصوصی فیری اور کشتی سروس بھی فراہم کی جا رہی ہے، جو رات دس بجے روانہ ہو کر ایک بجے واپس آئے گی، تاکہ شہری سمندر سے آتش بازی کا نظارہ کر سکیں۔
دوسری جانب نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی نے خبردار کیا ہے کہ نئے سال کی شام مختلف علاقوں میں ہلکی بارش، ٹھنڈا موسم، تیز ہوائیں اور سمندری حالات خراب رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان تمام انتظامات کا مقصد لاکھوں افراد کی محفوظ، منظم اور خوشگوار نئے سال کی تقریبات کو یقینی بنانا ہے۔







