متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں کیپیٹل مارکیٹس کے ضابطے سے متعلق دو وفاقی فرمانی قوانین جاری

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی اور کیپیٹل مارکیٹس کے ضابطے سے متعلق دو وفاقی فرمانی قوانین جاری کر دیے ہیں۔ یہ اقدام مالیاتی شعبے کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اس کے استحکام، مؤثریت اور مسابقت کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ان قوانین کے ذریعے قومی ریگولیٹری نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگ کیا گیا ہے، جبکہ کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کی خودمختاری اور اس کے کردار کو مزید تقویت دی گئی ہے تاکہ کیپیٹل مارکیٹس کے شعبے کی مضبوطی، شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ دونوں وفاقی فرمانی قوانین کیپیٹل مارکیٹس کے استحکام اور سالمیت کے تحفظ کے لیے مرتب کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد عالمی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگی، عالمی مالیاتی اداروں کی ضروریات کی تکمیل اور بین الاقوامی جائزوں میں بہتری لانا ہے۔ ان میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سیکیورٹیز کمیشنز، ورلڈ بینک، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کی پاسداری بھی شامل ہے۔

صارفین کے تحفظ اور مالی شمولیت کے حوالے سے ان قوانین میں ایک جامع فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت لائسنس یافتہ اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل تبدیلی اور فنانشل ٹیکنالوجی کی ترقی کے مطابق معاشرے کے تمام طبقات کو موزوں مالیاتی خدمات تک رسائی فراہم کریں، ساتھ ہی مالیاتی سرگرمیوں اور خدمات میں پائیداری اور قیادت کو فروغ دیا جائے۔

کیپیٹل مارکیٹس کے ضابطے سے متعلق قانون کے تحت لائسنس یافتہ اداروں کی مالی حالت میں بگاڑ کے ابتدائی اشاریوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اور بروقت مداخلتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ مالیاتی نظام کے استحکام اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان اقدامات میں بحالی منصوبوں کا نفاذ، اضافی سرمایہ اور لیکویڈیٹی کی شرائط، انتظامی و عملی ڈھانچے میں تبدیلی، عارضی کمیٹیوں کی تقرری، براہ راست انتظام، انضمام، حصول یا تحلیل جیسے اقدامات شامل ہیں۔

کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کو بحران کے حل کے ادارے کے طور پر مرکزی کردار دیا گیا ہے، جس کے تحت وہ انتظامیہ کی برطرفی یا تقرری، عارضی منتظم کی تعیناتی، سرمایہ جاتی ڈھانچے کی تنظیم نو اور ضروری اصلاحی اقدامات نافذ کر سکے گی تاکہ اہم مالیاتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے۔

انتظامی سزاؤں کے حوالے سے قوانین میں خلاف ورزی کی نوعیت اور لین دین کے حجم کے مطابق جرمانوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ اتھارٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ خلاف ورزی سے حاصل ہونے والے منافع یا بچائے گئے نقصان کے دس گنا تک جرمانہ عائد کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حتمی عدالتی فیصلے سے قبل مصالحت اور اتھارٹی کی ویب سائٹ پر سزاؤں کی اشاعت کی اجازت دے کر شفافیت اور مارکیٹ نظم و ضبط کو فروغ دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button