
خلیج اردو: متحدہ عرب امارات میں نئے سول ٹرانزیکشنز قانون کے تحت سنِ بلوغت کی حد 21 قمری سال سے کم کر کے 18 عیسوی سال کر دی گئی ہے، جس کے بعد 18 سال کے نوجوانوں کو مکمل شہری قانونی اہلیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس تبدیلی سے نوجوانوں کے معاہدات، بینکاری، رہائش، تعلیم اور کاروبار سے متعلق معاملات پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے اور والدین کی رضامندی سے متعلق روایتی تصور میں بھی تبدیلی آئے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف تکنیکی نہیں بلکہ عملی نوعیت کی ہے، جس سے خاندانوں، اداروں اور عدالتوں کا روزمرہ معاملات کو دیکھنے کا انداز تبدیل ہوگا۔ 18 سال کی عمر مکمل کرنے کے بعد نوجوان کو معاہدہ کرنے اور اپنے اثاثوں کے انتظام کی مکمل قانونی صلاحیت حاصل ہوگی۔ اس کے تحت بینک اکاؤنٹ کھولنا، کرایہ داری معاہدے، یونیورسٹی فیس کے معاملات، گاڑیوں کی خریداری، کاروبار کا آغاز اور مالی ذمہ داریاں بغیر والدین یا سرپرست کی لازمی اجازت کے انجام دی جا سکیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد خاندانی تنازعات کی نوعیت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ پہلے کسی معاملے کو عمر اور قانونی اہلیت کی بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا تھا، اب 18 سال کی عمر فیصلہ کن حد ہے اور عدالتوں میں زیادہ تر سوال یہ ہوگا کہ لین دین میں دباؤ، دھوکا دہی یا استحصال تو شامل نہیں تھا۔ صرف غلط فیصلہ اب کسی معاہدے کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
نیا قانون والدین کی سرپرستی کے تصور کو بھی نئے انداز سے بیان کرتا ہے۔ والدین کی اخلاقی اور عملی اہمیت برقرار رہے گی، تاہم 18 سال کے بعد قانونی اختیار خود نوجوان کو حاصل ہوگا اور علیحدہ رہنے والے والدین میں سے کسی ایک کی طرف سے اجازت روکنا مؤثر نہیں رہے گا۔
تجارتی اور مالی نقطہ نظر سے یہ قانون نوجوانوں کے طرزِ زندگی سے مطابقت پیدا کرتا ہے۔ 18 سال کے نوجوان اب خود معاہدے کر سکیں گے، کمپنی کے بانی یا شیئرہولڈر بن سکیں گے اور اپنے فیصلوں کے قانونی نتائج کے بھی خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس لیے مالی فہم، خاندانی گفتگو اور رقم کی نوعیت کو تحریری طور پر واضح کرنا پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ والدین کی طرف سے دی گئی رقم تحفہ ہے یا قرض۔
مجموعی طور پر یہ اصلاح متحدہ عرب امارات میں بالغ شہری حیثیت کے جدید تصور کی طرف پیش رفت ہے، جہاں 18 سال کی عمر میں قانونی خود مختاری کے ساتھ ذمہ داری بھی شروع ہو جاتی ہے۔







