
خلیج اردو
جمعہ کی نماز کے اوقات میں تبدیلی کے بعد یو اے ای میں جمعہ کے روز اسکولوں کے چھٹی کے نئے اوقات لاگو ہوئے جس کے باعث متعدد والدین کو شدید ٹریفک، مصروفیات میں ردوبدل اور بچوں کو لینے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جمعہ 9 جنوری کو اسکولوں کی نئی ڈسپرسل ٹائمنگ کے ساتھ پہلا دن تھا، جس میں بعض والدین نے کامیابی سے اپنے معمولات کو ترتیب دیا، جبکہ دیگر طویل ٹریفک جام میں پھنسے رہے اور دفاتر میں تاخیر سے واپس پہنچے۔
نئی پالیسی کے مطابق جمعہ کی نماز کا وقت 1:30 بجے سے تبدیل کرکے 12:45 بجے کردیا گیا، جس کے باعث اسکولوں نے بھی اپنے اوقات کار کو اسی مناسبت سے مختصر یا تبدیل کیا۔ اسی وجہ سے کئی علاقوں میں غیر معمولی ٹریفک دیکھنے میں آئی۔
ابوظہبی کی رہائشی سُرومی نے بتایا کہ عام دنوں میں بیٹی کو اسکول سے لے کر ریئم آئی لینڈ گھر پہنچانے اور دفتر واپس آنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے، تاہم آج راستوں پر غیر معمولی رش کے باعث یہ سفر دو گھنٹے میں طے ہوا۔ دبئی کی رہائشی زینب حسین نے بھی اسی نوعیت کی شکایات بیان کیں اور کہا کہ معمول کی 10 منٹ کی ڈرائیو آج 45 منٹ میں مکمل ہوئی، ہر جگہ رش اور ہارن بجتے رہے، امید ہے آئندہ ہفتے حالات بہتر ہوں گے۔
کچھ والدین نئے اوقات کو بھول بھی گئے۔ بھارتی نژاد محمد اقبال نے بتایا کہ انہوں نے سابقہ اوقات کے مطابق منصوبہ بندی کی تھی اور ملاقات کے بعد بچوں کو لینے کا سوچا تھا مگر انہیں واٹس ایپ گروپ پر پیغامات دیکھ کر یاد آیا کہ اسکول کی ٹائمنگ تبدیل ہوچکی ہے، جس کے بعد دوست کی مدد سے بچوں کو گھر بھجوایا گیا۔
چھوٹے بچوں کے لیے جمعہ کا دن زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ دبئی کی رہائشی حارثہ فرزانہ نے کہا کہ ان کے ننھے بیٹے کو صبح 6 بجے بس پک کرتی ہے، 7:30 پر اسکول شروع ہوتا ہے اور 9:25 پر ختم، مگر واپسی پر 10:30 بجے گھر پہنچتا ہے، یعنی دو گھنٹے کی کلاس کے لیے پونے تین گھنٹے بس میں رہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکام سے جمعہ کے روز آن لائن کلاسز کو اختیاری بنانے کی درخواست کی۔
اسی کے برعکس کچھ خاندانوں کے لیے نئے اوقات سہولت کا سبب بھی بنے۔ ام عبدالرحمن نے بتایا کہ پہلے ایک بچے کی چھٹی 11:30 پر ہوتی تھی اور دوسرے بچوں کی 10:30 پر، مگر اب سب کے اوقات قریب آنے سے گھر واپسی اور نماز جمعہ کی تیاری میں آسانی ہوگئی ہے۔
مجموعی طور پر جمعہ کے تبدیل شدہ اوقات کے باعث اسکول ٹائمنگز میں ردوبدل نے والدین، بچوں اور ٹریفک کی صورتحال پر نمایاں اثر ڈالا، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں معمولات بتدریج بہتر ہو جائیں گے۔







