(خلیج اردو ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارت کے دارالحکومت میں وزرات برائے انسانی ترقی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 80 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران وہ خاندانی نظام کے مزید قریب تر ہوئے ہیں اور انہیں اس دوران اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا موقعہ ملا ہے۔اس کے علاوہ تحقیق کہ دوران تقریباً 87 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ اس وبا کی وجہ سے انہوں نے اپنے نظام زندگی کو کافی حد تک بدلا ہے خاص کر عوامی مقامات جہاں عوام کا رش زیادہ ہو وہاں جانے سے گریز ان کے معمولات زندگی کا حصہ بنا۔
تفصیلات کے مطابق یہ تحقیق وزرات برائے انسانی ترقی نے کرونا وائرس کی وبا کے دوران انسانی زندگی کے معمولات کو پرکھنے کے لیے کی تھی۔
وزرات نے اس دوران عام عوام کے معمولات زندگی کی نگرانی کی خاص طور پر انسانی رویوں میں تبدیلی اور معاشرتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔اس جائزے کے بعد اپنی سفارشات کو فیصلہ ساز کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔اس تحقیق میں تقریباً 50 ہزار لوگوں نے حصہ لیا۔
یہ تحقیق اپریل میں شروع ہوئی اور تقریباً دو مہینے چلی۔اس تحقیق میں تقریباً 47.7 فیصد مرد اور 52.3 فیصد عورتیں شامل تھیں۔
وزارت انسانی ترقی کی مشیر محترمہ مونا ال بہار کا کہنا تھا کہ ” ہم نے اس تحقیق کے نتائج پر غور کیا ۔یہ بھی جانا کہ اس وبا کے دوران خاندانی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔اس کے علاوہ ہم نے اس سارے معاملے کے بارے میں اپنی سفارشات بھی فیصلہ ساز کمیٹی کے سامنے رکھیں ہیں تاکہ ان کا حل نکالا جاسکے”.
وزرات کے مطابق اس تحقیق کی وجہ سے تقریباً دس سرکاری اداروں کو 60 محتلف اقدامات اٹھانے میں مدد ملی ۔ان اداروں میں وزرات برائے سماجی تقسیم،ابوظہبی سماجی امداد ،ابوظہبی اطفال سپورٹ اور زاید ہاؤس برائے اسلامی تہذیب شامل ہیں۔
وبا کے دوران تقریباً 94 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حکومت ان اقدامات کی وجہ سے صورتحال پر قابو پالے گی۔95 فیصد عوام کا کہنا تھا کہ ان کے پاس وبا سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی معلومات موجود ہیں جب کہ 90.5 فیصد افراد کا یہ کہنا تھا کہ حکومت تمام معاملات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور قابل تعریف اقدام اٹھا رہی ہے۔عوام کی اکثریت نے وزرات صحت کی قابلیت کو بھی سراہا کہ کیسے انہوں نے اس وبا کے دوران ساری صورتحال پر قابو پایا۔ تقریباً 89 فیصد عوام کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری طبعی مراکز اس وبا سے نمٹنے کے لیے تمام تر سہولیات سے لیس ہیں جب کہ 91 فیصد عوام کا کہنا تھا کہ حکومت نے وبا سے پہلے ہی کافی سارے احتیاطی اقدامات اٹھا لیے تھے۔
89.5فیصد عوام کا کہنا تھا کہ وہ تمام خبریں مستند اداروں سے حاصل کرنے کی کوشش میں رہے تاکہ کسی قسم کی کوئ بھی افواہ نا پھیل سکے۔
ڈاکٹر ال بہار کا مزید کہنا تھا کہ ” ہم اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے اور ایک نئی تحقیق جلد شروع کریں گے کہ کیسے اس وبا کے اختتام پر عوام کی زندگیاں بدلی ہیں یا اس وبا کے ان کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوئے ۔ہمیں امید ہے کہ ہمارا مستقبل روشن ہے کیوں کہ تحقیق یہ بتارہی ہے کہ ہمارے ملکی حالات دیگر ممالک سے کافی حد تک بہتر ہیں”.
Source : Gulf News







