
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز امریکا کی قیادت میں مصنوعی ذہانت (AI) اور سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے عالمی اقدام Pax Silica میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس سے امریکا اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
یہ پروگرام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اقتصادی حکمتِ عملی کا اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد حریف ممالک پر انحصار کم کرنا اور اتحادی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس گروپ میں آسٹریلیا، برطانیہ، اسرائیل، جاپان، قطر، سنگاپور اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔
امریکی انڈر سیکریٹری برائے اقتصادی امور جیکب ہیلبرگ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس اقدام کا فوکس سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے، صنعتی صلاحیت، سرمایہ اور توانائی پر ہے، جبکہ امریکا یو اے ای کو ایک جامع شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے جو ان تمام شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہیلبرگ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے یو اے ای کو آئندہ ماہ واشنگٹن میں اہم معدنیات سے متعلق وزارتی سطح کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جس میں کئی ممالک شریک ہوں گے۔
یو اے ای عالمی سطح پر خود کو اے آئی ہب بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات کے ذریعے جدید امریکی ٹیکنالوجی اور جدید ترین چِپس تک رسائی چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں ابو ظبی میں امریکی ٹیکنالوجی کے اشتراک سے دنیا کے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں سے ایک کے قیام کا کثیر ارب ڈالر کا معاہدہ بھی کیا جا چکا ہے۔
امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر ممکنہ 25 فیصد ٹیرف کے سوال پر جیکب ہیلبرگ نے کہا کہ وہ امریکا اور یو اے ای کے تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اگرچہ قطر Pax Silica پروگرام کا حصہ ہے، تاہم سعودی عرب اس میں شامل نہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی ایک بڑا دوطرفہ اے آئی معاہدہ طے پا چکا ہے۔







