
بغداد:
عراق نے جمعرات کو واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا، خاص طور پر ایران کے خلاف، کیونکہ یہ عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہوگی اور ملک کو ایسے تنازعات میں دھکیل دے گی جو نہ اس کی حفاظت کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کے مفاد میں ہیں۔
عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی (INA) کے مطابق، کوارڈینیشن فریم ورک نے کہا:
"عراق کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی، خصوصاً اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطہ مزید فوجی تنازعات برداشت نہیں کر سکتا، خاص طور پر موجودہ معاشی چیلنجز اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیشِ نظر، جو عوام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
عراق نے زور دیا کہ وہ سفارتی اور سیاسی حل کے ساتھ کھڑا ہے، جسے وہ "بحرانوں کے حل، ریاستوں کی خودمختاری کے تحفظ، اور عوام کو جنگ کے نقصانات سے بچانے کا بہترین راستہ” قرار دیتا ہے۔







