متحدہ عرب امارات

اچانک سیلاب، تھکن اور حادثات: یو اے ای میں ہائیکرز کو پہاڑوں کے خطرات کا احترام کرنے کی ہدایت

خلیج اردو
یو اے ای میں ہائیکنگ کے بڑھتے رجحان کے ساتھ ماہر ہائیکرز اور طبی ماہرین نے پہلی بار پہاڑوں کا رخ کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ زیادہ تر حادثات بدقسمتی نہیں بلکہ غلط منصوبہ بندی اور حد سے زیادہ اعتماد کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

کلبا سے تعلق رکھنے والے اماراتی ایڈونچر اور 7 ہائیکرز ایڈونچر ٹیم کے رکن محمد عبداللہ البلوشی کے مطابق محفوظ ہائیک کا آغاز ٹریل پر قدم رکھنے سے بہت پہلے ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذہنی اور جسمانی تیاری خاص طور پر نئے ہائیکرز کے لیے نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیکر کا جسمانی طور پر فِٹ ہونا، ذہنی طور پر پُرسکون ہونا اور درست وقت کا انتخاب کرنا بنیادی عوامل ہیں۔ ان کے مطابق پہاڑی راستے آسان ٹریکس سے لے کر انتہائی خطرناک روٹس تک ہوتے ہیں، اس لیے نئے افراد کو اپنی صلاحیتوں کے بارے میں ایماندار ہونا چاہیے۔

البلوشی نے مناسب سامان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عام اسپورٹس شوز کے بجائے خصوصی ہائیکنگ جوتے، ٹریکنگ پولز اور ہائیکنگ بیگ استعمال کیے جائیں۔ پانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہائیک کے دوران کم از کم دو سے تین لیٹر پانی، ہلکی پھلکی خوراک اور توانائی بخش اسنیکس ہمراہ ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حفاظتی سامان جیسے ٹارچ، ہیلمٹ، ہارنس، مناسب لباس، مکمل چارج موبائل فون اور نیویگیشن ٹولز زندگی بچا سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ہائیک طے شدہ وقت سے زیادہ طویل ہو جائے یا راستہ بھٹک جائے۔

محمد عبداللہ البلوشی نے ہائیک سے قبل حکام، گائیڈز یا قریبی افراد کو اپنے روٹ اور مقام سے آگاہ کرنے کی بھی تلقین کی تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو آپریشن تیز ہو سکے۔ ابتدائی طبی امداد کا سامان اور ذاتی ادویات ساتھ رکھنا بھی ضروری قرار دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بیشتر حادثات قابلِ تدارک غلطیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں، جن میں تیز چلنا، قدموں پر توجہ نہ دینا، چلتے ہوئے موبائل فون استعمال کرنا اور موسم کو نظر انداز کرنا شامل ہے۔ خاص طور پر بارش کے دوران پہاڑی علاقوں اور وادیوں میں اچانک سیلاب شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔ اکیلے ہائیک کرنا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

البلوشی نے عمان میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کا ذکر کیا جہاں شدید بارش کے باعث دو تجربہ کار دوست وادی میں پھنس کر جان کی بازی ہار گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ہائیکر کی موجودہ جگہ پر بارش نظر نہیں آتی لیکن قریبی علاقوں میں ہونے والی بارش چند منٹوں میں وادی کو سیلاب میں تبدیل کر سکتی ہے۔

اسی حوالے سے ایڈونچر ود نیچر ٹیم کے سربراہ احمد عیسیٰ المنصوری نے کہا کہ نئے ہائیکرز کو بتدریج اپنی جسمانی صلاحیت اور معلومات میں اضافہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ابتدائی فٹنس کا اندازہ پہلے 200 میٹر میں ہی ہو جاتا ہے، اسی لیے نئے افراد کو پہلے آسان ٹریکس پر آزمایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض افراد اپنی فٹنس یا تجربے کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں سانس کی کمی، چکر، الٹی یا پٹھوں میں شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ نامناسب لباس اور جوتے پھسلنے اور چوٹوں کا سبب بنتے ہیں۔

طبی ماہرین بھی ان خدشات کی تصدیق کرتے ہیں۔ راکس اسپتال کی انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکٹر جسپریت کور کے مطابق ہسپتالوں میں ہائیکنگ سے متعلق نہ صرف موچ اور فریکچر بلکہ ہیٹ ایکزاسشن، ہائپوتھرمیا، سوڈیم اور شوگر کی کمی جیسے سنگین کیسز بھی سامنے آتے ہیں۔

ڈاکٹر جسپریت کور نے کہا کہ ذہنی الجھن، توازن کا بگڑنا، سینے میں درد یا غیر معمولی سانس کی کمی جیسی علامات کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق دمہ، دل کے امراض اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہائیکنگ اضافی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا،
“اپنے جسم کی سننا سب سے اہم اصول ہے۔ واپس مڑ جانا یا نیچے اترنا ناکامی نہیں بلکہ کامیابی ہے۔ درست منصوبہ بندی اور جسمانی آگاہی ہی محفوظ اور خوشگوار ہائیکنگ کی ضمانت ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button