
تحقیقات کے مطابق 24 سالہ نوجوان کو سینے میں چاقو کا گہرا وار کیا گیا جو پھیپھڑوں تک جا پہنچا اور جان لیوا ثابت ہوا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سر کے پچھلے حصے پر ایک اور چوٹ بھی پائی گئی، جس سے خاتون کے اس ابتدائی بیان کی تردید ہوئی کہ چاقو ہاتھا پائی کے دوران حادثاتی طور پر لگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حاملہ خاتون نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ واقعہ شوہر کے ساتھ کھانے کے معاملے پر ہونے والے جھگڑے کے بعد پیش آیا۔ خاتون تیسرے مہینے کی حاملہ تھی اور تھکن کے باعث کھانا بنانے سے انکار پر بات تکرار تک جا پہنچی، جو چند ہی لمحوں میں سنگین صورت اختیار کر گئی۔
اہلِ خانہ کے مطابق دونوں کی شادی روایتی طریقے سے تقریباً 150 دن قبل ہوئی تھی اور ازدواجی زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ مقتول کو رشتہ داروں نے نرم مزاج اور صلح جو شخص قرار دیا۔
مقتول کی بہن نے بتایا کہ اس نے بھائی کو واقعے سے کچھ دیر قبل دیکھا تھا اور وہ بالکل پرسکون تھا، تاہم کچھ ہی دیر بعد فلیٹ میں داخل ہونے پر اسے فرش پر بے حرکت پایا۔
استغاثہ نے ملزمہ کو قتلِ عمد کے الزام میں 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔






