خلیجی خبریں

ایران مذاکرات میں امریکا سے براہِ راست بات چیت سے گریزاں، ثالثی کے ذریعے پیغامات پر اکتفا، خطے کے ممالک کو فاصلے کی ہدایت

خلیج اردو
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی اور صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، جسے وہ مذاکرات کا حقیقی عمل نہیں سمجھتے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کو پیغام دیا کہ امریکا سے فاصلے کو برقرار رکھیں۔

عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کسی جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ تنازع کا مستقل اور جامع حل چاہتا ہے، جس میں گزشتہ ہونے والے نقصانات کا ازالہ اور جوابدہی شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا اپنے جنگ کے مقاصد میں ناکام ہو چکا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران خطے کے کسی ملک سے دشمنی نہیں رکھتا، بلکہ امریکی اڈوں اور مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے جاتے ہیں۔ ایران نے چین، روس، پاکستان، بھارت اور عراق کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کی اجازت دی، لیکن اپنے دشمنوں کو اس سے گزرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

عراقچی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران عالمی اور خطائی سطح پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button