متحدہ عرب امارات

یو اے ای کا امریکا ایران معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت پر زور

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر مکمل عملدرآمد، فوری طور پر کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

اماراتی صدارتی مشیر برائے سفارتکاری ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات حالیہ علاقائی بحران سے “زیادہ مضبوط، زیادہ لچکدار اور زیادہ پراعتماد” ہو کر ابھرا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امارات نے سفارتی اور مؤثر طریقے سے جنگ سے بچنے کی کوشش کی، جبکہ اپنی خودمختاری کا مضبوطی سے دفاع بھی کیا۔

ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے خطے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے ایک ماڈل کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔

دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے اعلان کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے مکالمہ، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری انتہائی ضروری ہے۔

وزارت نے زور دیا کہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، جس میں ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصول اور بین الاقوامی قانون کی سخت پاسداری شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ سمندری راستوں کا تحفظ اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی یقینی بنانا ناگزیر ہے، تاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اقتصادی ترقی اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

وزارتِ خارجہ نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور متعلقہ فریقین کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔

امارات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ حاصل شدہ پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے اور دیرپا نتائج حاصل ہوں۔

ڈاکٹر انور قرقاش نے اس سے قبل کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کبھی بھی جنگ کا حامی نہیں رہا اور آئندہ بھی خطے میں امن و استحکام کی حمایت جاری رکھے گا۔

ماہرین کے مطابق یو اے ای کا یہ مؤقف خطے میں سفارتی توازن، اقتصادی مفادات اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس تجارتی راستے کے تناظر میں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button