
خلیج اردو
کویت نے پیر 15 جون کو ایک نئے طویل المدتی رہائشی منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ان کے اہل خانہ کو 15 سال تک کا رہائشی ویزا جاری کیا جا سکے گا۔
نئے قانون کے مطابق اہل غیر ملکی سرمایہ کار، ان کے قریبی اہل خانہ، منظور شدہ سینئر ایگزیکٹوز اور سرمایہ کاری اداروں سے وابستہ پارٹنرز اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو کویت میں فعال ہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام کویت کو خطے میں ایک اہم سرمایہ کاری اور مالیاتی مرکز بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی تنوع کو بڑھانا ہے۔
اہلیت کے معیار کے تحت سرمایہ کاروں کو کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی (KDIPA) سے لائسنس یافتہ اداروں کا مالک ہونا لازمی ہوگا، جبکہ انہیں ملک میں فعال کاروباری سرگرمیاں برقرار رکھنی ہوں گی۔
سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم 1 ملین کویتی دینار کی سرمایہ کاری اور کم از کم 5 ملین دینار کی مجموعی سرمایہ کاری مالیت برقرار رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کویتی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔
کویتی وزارت داخلہ کے مطابق یہ اقدام ملک کو خطے میں ایک مضبوط تجارتی اور مالیاتی مرکز بنانے کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے، جبکہ اس سے عالمی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی اعتماد فراہم ہوگا۔
یہ فیصلہ کابینہ کی قرارداد نمبر 651 برائے 2026 کے تحت کیا گیا ہے، جس کی تیاری میں وزارت داخلہ اور سرمایہ کاری اتھارٹی نے مشترکہ طور پر کام کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات کویت کے قانونی اور معاشی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش ماحول پیدا کیا جا سکے۔
خطے میں طویل المدتی رہائش کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کا “گولڈن ویزا” پہلے سے ایک نمایاں مثال کے طور پر موجود ہے، جو سرمایہ کاروں اور ہنر مند افراد کو 10 سال تک رہائش کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کویت کا یہ اقدام خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے مسابقت کو مزید بڑھا دے گا اور خطے میں معاشی پالیسیوں کو نئی سمت دے گا۔







