
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے سینئر سفارت کار ڈاکٹر محمد ابراہیم الظاہری نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک ایسے غیر یقینی ماحول کو مزید برداشت نہیں کر سکتے جہاں سفارتی تحمل کے ہر دور کے بعد ایران کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی بحری تجارت کو خطرے میں ڈال دیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحرین و کویت کے خلاف حالیہ حملوں کے بعد خطے میں ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ابراہیم الظاہری نے کہا کہ اگر سفارت کاری کے ذریعے پائیدار امن حاصل کرنا ہے تو علاقائی استحکام کو ناقابلِ سمجھوتہ اصول بنانا ہوگا، جبکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اقدامات کی واضح سیاسی اور تزویراتی قیمت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے درست نشاندہی کی ہے کہ قطری اور سعودی تجارتی جہازوں پر حملے اور بحرین و کویت کے خلاف کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ تہران اب بھی کشیدگی میں کمی کے بنیادی تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہے۔
ڈاکٹر انور قرقاش نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عرب خلیجی ممالک ایران کی جانب سے کبھی کشیدگی اور کبھی امن کی پالیسی کا ہدف نہیں بن سکتے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بھی قطر کے الرقیات اور سعودی عرب کے ودیان نامی تجارتی جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ وزارت کے مطابق آبنائے ہرمز کو معاشی دباؤ یا بلیک میلنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور اس سے خطے، عالمی توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کو براہ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ڈاکٹر الظاہری نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کو دوہری حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ایک جانب علاقائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جائے، بحری انٹیلی جنس کے تبادلے کو بہتر بنایا جائے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر بین الاقوامی قوانین کے تحت بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، جبکہ دوسری جانب غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے سفارتی رابطے بھی برقرار رکھے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری، خصوصاً امریکہ اور یورپی ممالک، کو واضح اور متحد پیغام دینا ہوگا کہ خلیجی آبی گزرگاہوں کا تحفظ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر سفارت کاری کے لیے قابل اعتماد دفاعی صلاحیت ضروری ہے۔ اگر عالمی اور علاقائی طاقتیں جارحیت کے خلاف متحد اور مربوط مؤقف اپنائیں اور ساتھ ہی قوانین کی پاسداری کے لیے واضح سفارتی راستہ بھی کھلا رکھیں تو خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکتا ہے، تاہم امن کے لیے عملی اقدامات کی ذمہ داری اب مکمل طور پر تہران پر عائد ہوتی ہے۔







