
خلیج اردو
فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ صرف یادگار گولز اور سنسنی خیز مقابلوں سے ہی نہیں بلکہ متنازع ریفری فیصلوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ 1986 میں ڈیگو مارادونا کے مشہور "ہینڈ آف گاڈ” گول سے لے کر 2026 میں ارجنٹینا اور مصر کے درمیان ہونے والے متنازع ناک آؤٹ میچ تک، ایسے فیصلے آج بھی شائقین کے جذبات کو بھڑکا دیتے ہیں۔
1986 کے ورلڈ کپ میں مارادونا نے انگلینڈ کے خلاف ہاتھ سے گول کیا، مگر ریفری اسے نہ دیکھ سکے اور گول منظور کر لیا۔ یہ لمحہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کا 1966 کے ورلڈ کپ فائنل میں جیوف ہرسٹ کا متنازع ’’گھوسٹ گول‘‘ بھی آج تک بحث کا موضوع ہے۔
اسی طرح 1990 کے ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا کے شائقین آج بھی اس پنالٹی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہیں جس کی بدولت مغربی جرمنی نے فائنل جیتا تھا۔
مصر اور ارجنٹینا کے میچ پر نیا تنازع
2026 کے ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا نے مصر کو 3-2 سے شکست دی، لیکن مصری شائقین اور حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کو ریفری اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے متنازع فیصلوں نے شکست سے دوچار کیا۔
مصر کے کوچ حسام حسن نے وی اے آر کے ذریعے مصطفیٰ زیکو کا دوسرا گول مسترد کیے جانے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس فیصلے نے میچ کا رخ بدل دیا۔
مصری ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انجری ٹائم میں محمد صلاح کو ارجنٹائن کے پنالٹی ایریا میں گرائے جانے پر پنالٹی نہ دینا بھی غلط فیصلہ تھا، جو میچ کے نتیجے پر اثرانداز ہوا۔
مختلف آرا
جنوبی امریکی فٹبال کے ماہر ٹِم وِکری کے مطابق محمد صلاح کے خلاف ہونے والا چیلنج پنالٹی نہیں تھا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بڑے مقابلوں میں اکثر مضبوط ٹیموں کو ’’شک کا فائدہ‘‘ مل جاتا ہے۔
دوسری جانب ارجنٹائن کے سینئر اسپورٹس صحافی الیخاندرو میگدالینو نے کہا کہ وی اے آر اور ریفری دونوں نے درست فیصلے کیے، جبکہ مصر کے اعتراضات کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں۔
دبئی میں مقیم مصری میڈیا پروفیشنل شیروق زکریا نے کہا کہ ریفری کے فیصلوں نے لاکھوں مصریوں کے دل توڑ دیے اور پورے ملک میں شدید مایوسی پھیل گئی۔
شارجہ میں مقیم ارجنٹائنی شہری جارج فیراری کا کہنا تھا کہ شکست کے بعد ریفری کو مورد الزام ٹھہرانا فٹبال کا پرانا رجحان ہے۔ ان کے مطابق مصر نے 2-2 کی برابری کے بعد اضافی وقت تک میچ لے جانے کے بجائے تیسرا گول کرنے کی کوشش کی، جو ایک حکمتِ عملی کی غلطی ثابت ہوئی۔
ماہرین کے مطابق ریفری کے فیصلوں، وی اے آر اور متنازع گولز پر بحث فٹبال کا ہمیشہ حصہ رہی ہے، اور جب تک ورلڈ کپ کھیلا جاتا رہے گا، ایسے تنازعات بھی ختم ہونے کا امکان نہیں۔







