
خلیج اردو
پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں عمانی کوہ پیما نضیرہ الحارثی اور نیپال کے پور بہادر گرونگ ’یکتا‘ ہلاک ہوگئے جبکہ حادثے کے بعد لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی تلاش جاری ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان نے دونوں کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
الپائن کلب کے مطابق دونوں کوہ پیما 8 دیگر افراد کے ہمراہ براڈ پیک سر کرنے کی مہم پر تھے جب برفانی تودے نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یو اے ای کی ہائیکنگ اور کوہ پیمائی برادری نے نضیرہ الحارثی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ Arabian FiTrekkers نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ان کا جذبہ، حوصلہ اور کامیابیاں عمان اور عرب دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے متاثر کن تھیں۔
الپائن کلب نے کہا ہے کہ باقی کوہ پیماؤں کی شناخت سرکاری معلومات موصول ہونے کے بعد کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 4 لاشیں مل چکی ہیں تاہم حکام نے دیگر لاشوں کی شناخت کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مہم میں نضیرہ الحارثی اور پور بہادر گرونگ کے علاوہ پانچ مزید نیپالی، ایک پاکستانی، ایک امریکی، ایک چینی کوہ پیما اور ایک اور غیر ملکی شامل تھے۔
نیپال کے معروف کوہ پیما نرمل پرجا بھی لاپتہ کوہ پیماؤں میں شامل ہیں۔ 43 سالہ نرمل پرجا نے برطانوی بریگیڈ آف گورکھاز میں خدمات انجام دیں اور بعد میں رائل میرینز کی اسپیشل بوٹ اسکواڈرن کا حصہ رہے۔ وہ بعد ازاں کل وقتی کوہ پیما اور گائیڈ بن گئے اور کئی عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے۔
نرمل پرجا نے اپریل سے اکتوبر 2019 کے درمیان صرف 6 ماہ اور 6 دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کیا تھا جو اس وقت ایک عالمی ریکارڈ تھا۔
2021 میں انہوں نے 9 دیگر نیپالی کوہ پیماؤں کے ہمراہ کے ٹو کو موسم سرما میں پہلی مرتبہ سر کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔
لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے جغرافیائی محل وقوع معلوم کرنے والے آلات سے لیس ریسکیو ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔
الپائن کلب کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری نے اسکردو میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ GPS کے ذریعے 4 کوہ پیماؤں کے مقامات کا سراغ لگا لیا گیا ہے تاہم اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں کہ ان کے ساتھ اصل میں کیا ہوا۔
پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقے میں جاری زمینی سرچ آپریشن کو مزید مؤثر بنانے اور لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ بیجنگ صورتحال کی فوری طور پر تصدیق اور معلومات حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور پاکستان کو ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
نرمل پرجا کا آخری پیغام
نرمل پرجا نے رواں ہفتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ وہ دنیا کی تمام 14 "سپر پیکس” کو بغیر آکسیجن کے دو مرتبہ سر کرنے والے پہلے شخص بننے کے قریب ہیں۔
براڈ پیک مہم کے حوالے سے انہوں نے لکھا تھا کہ وہ صرف محفوظ طریقے سے چوٹی تک پہنچنے اور واپس آنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
نرمل پرجا نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی پہاڑ کو معمولی نہیں سمجھتے اور بیس کیمپ سے قدم باہر رکھتے ہی ان کی مکمل توجہ اپنی مہم پر مرکوز ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان کا مقصد کبھی صرف اپنی ذات نہیں رہا بلکہ دوسروں کو یہ دکھانا بھی ہے کہ زندگی میں آنے والی اپنی اپنی مشکلات اور "پہاڑ” سر کیے جاسکتے ہیں۔
براڈ پیک دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی ہے جو شمالی پاکستان کے قراقرم سلسلے میں واقع ہے۔ 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں اسے مشکل ترین اور تکنیکی طور پر پیچیدہ کوہ پیمائی مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔
براڈ پیک کو پہلی مرتبہ 1957 میں آسٹریا کی ایک ٹیم نے سر کیا تھا۔







