
خلیج اردو
ترکی کے شہر قونیہ سے تعلق رکھنے والا 11 سالہ ییغت ایلما نایاب جینیاتی بیماری ڈوشین مسکیولر ڈسٹرافی (DMD) کے علاج کے لیے ابوظبی پہنچ گیا ہے۔ اس بیماری کے باعث اس کے پٹھے بتدریج کمزور ہوتے جا رہے ہیں اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فٹبال کھیلنے سے بھی محروم ہو گیا تھا۔
ییغت کو پانچ سال کی عمر میں بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس کے والدین، رابعہ اور اسماعیل ایلما، نے اس کی ٹانگوں میں سوجن دیکھنے کے بعد طبی معائنہ کرایا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ڈی ایم ڈی کا شکار ہے اور اس بیماری کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں۔
بعد ازاں خاندان کو Elevidys نامی ایک مرتبہ دی جانے والی جین تھراپی کے بارے میں معلوم ہوا، جو دنیا کے چند ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، میں دستیاب ہے۔ اس علاج کی لاگت ایک کروڑ درہم سے زائد ہے، جس کے باعث یہ دنیا کی مہنگی ترین ادویات میں شمار ہوتی ہے۔
اتنی بڑی رقم جمع کرنے کے لیے ترکی بھر میں عوامی مہم چلائی گئی۔ ییغت کی مدد کے لیے فٹبال میچز، والی بال ٹورنامنٹس، افطار پروگرام اور دیگر فلاحی تقریبات منعقد کی گئیں، جبکہ عطیہ کی گئی ایک گاڑی کی نیلامی بھی کی گئی۔ سوشل میڈیا مہم کے ذریعے ہزاروں افراد نے مالی تعاون کیا۔
متحدہ عرب امارات میں Winners International Commercial Brokers نے خاندان کو Burjeel Medical City سے رابطہ کرانے اور مریض کی منتقلی میں مدد فراہم کی، جبکہ Manzil Healthcare Services نے علاج سے متعلق فنڈ ریزنگ انتظامات میں تعاون کیا۔
ییغت اس وقت برجیل میڈیکل سٹی میں زیرِ علاج ہے، جہاں ڈاکٹروں نے علاج کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ہسپتال کے جینیٹکس اور نایاب امراض کے مرکز کے ڈائریکٹر پروفیسر ایمن وائل الخطاب کے مطابق، یہ جین تھراپی جسم میں ڈسٹروفن نامی پروٹین کی مؤثر شکل پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے، جو پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ علاج پہلے سے ہونے والے نقصان کو ختم نہیں کرتا، تاہم بیماری کی رفتار کو سست کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے بچوں میں جو ابھی چلنے پھرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ڈاکٹروں کے مطابق علاج سے پہلے ضروری ٹیسٹ کیے گئے، جن میں ییغت اس جین تھراپی کے لیے موزوں قرار پایا۔
ییغت سے پوچھا گیا کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ کیا کرنا چاہتا ہے، تو اس نے سادہ سا جواب دیا: "میں صرف اپنے دوستوں کے ساتھ فٹبال کھیلنا چاہتا ہوں۔”







