
خلیج اردو
دبئی میں روزگار کی تلاش میں آنے والی کینیا کی ایک خاتون مشکلات کا شکار ہونے کے بعد اپنے نومولود بچے سمیت وطن واپسی کی منتظر ہے، جس کے لیے دبئی حکام نے مدد فراہم کرنا شروع کردی ہے۔
خاتون متحدہ عرب امارات میں ملازمت حاصل کرکے کینیا میں اپنے خاندان کی کفالت کرنا چاہتی تھی تاہم حالات خراب ہونے کے بعد وہ نہ کام کر سکی اور نہ ہی وطن واپسی کے اخراجات برداشت کرسکی۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات میں ہی اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوگئی اور وہ گھر، آمدن اور سفر کے لیے ضروری دستاویزات سے محروم ہوگئی۔
خاتون اور اس کا نومولود اس وقت دبئی کے سینٹر فار ہاربرنگ میں مقیم ہیں جہاں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز کی جانب سے انہیں رہائش، کھانا، طبی سہولیات، کپڑے اور دیگر ضروری اشیا فراہم کی جارہی ہیں۔
حکام کینیا کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ماں اور بچے کے سفری دستاویزات مکمل کرانے اور وطن واپسی کے انتظامات کررہے ہیں۔
مرکز میں نفسیاتی مشاورت اور سماجی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ سفارت خانوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے ہنگامی سفری دستاویزات اور پروازوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔
جی ڈی آر ایف اے دبئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے کہا کہ مرکز آنے والے بہت سے افراد اپنے ملکوں میں جعلی یا گمراہ کن بھرتی کے وعدوں کا شکار ہوکر دبئی پہنچتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو صرف امیگریشن کیسز کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ مشکل حالات سے گزرنے والے انسانوں کے طور پر ان کی مدد کی جاتی ہے۔
کینیا کی خاتون اور اس کا بچہ سفری دستاویزات اور دیگر انتظامات مکمل ہونے تک مرکز میں رہیں گے، جس کے بعد انہیں وطن واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔







