متحدہ عرب امارات

گوگل سرچ میں کلاؤڈ چیٹس ظاہر ہونے کا انکشاف، اے آئی گفتگو نجی رکھنے کے طریقے

خلیج اردو

اے آئی چیٹ بوٹس پر ہونے والی گفتگو میں ذاتی معلومات، طبی سوالات، مالی تفصیلات اور دفتری دستاویزات شامل ہو سکتی ہیں، اس لیے ایک معمولی غلطی بھی پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں کلاؤڈ کی بعض چیٹس اور آرٹیفیکٹس گوگل سرچ نتائج میں نظر آنے کا معاملہ سامنے آیا۔ رپورٹس کے مطابق کچھ عوامی طور پر شیئر کیے گئے صفحات میں طبی ریکارڈز، کمپنی کی اندرونی معلومات اور ذاتی رابطہ تفصیلات بھی شامل تھیں۔

اہم بات یہ ہے کہ نجی اور غیر شیئر کی گئی چیٹس سامنے نہیں آئیں بلکہ متاثرہ گفتگو وہ تھی جسے صارفین نے شیئرنگ یا پبلشنگ فیچر کے ذریعے عوامی رسائی دی تھی۔

ماہرین کے مطابق صارفین کو اپنی شیئر کی گئی چیٹس کا جائزہ لے کر غیر ضروری پبلک لنکس ختم کرنے چاہئیں جبکہ کلاؤڈ آرٹیفیکٹس کو بھی الگ سے ان پبلش کرنا ضروری ہے۔

چیٹ جی پی ٹی صارفین بھی سیٹنگز میں جا کر شیئرڈ لنکس کا جائزہ لے سکتے ہیں اور غیر ضروری لنکس ختم کر سکتے ہیں۔ حساس گفتگو کے لیے ٹیمپریری چیٹ جیسے آپشنز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس میں پاس ورڈز، او ٹی پی، بینک تفصیلات، شناختی دستاویزات، میڈیکل رپورٹس اور خفیہ دفتری معلومات شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔

اگر کوئی حساس چیٹ گوگل سرچ میں ظاہر ہو جائے تو سب سے پہلے متعلقہ اے آئی پلیٹ فارم پر اس کا پبلک لنک ختم کیا جائے، اس کے بعد گوگل سے سرچ نتیجہ ہٹانے یا تازہ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button