متحدہ عرب امارات

شارجہ فشنگ کیمپ: طلبہ نے سمندر میں کشتی کی تیاری اور موسم کو سمجھنے کی تربیت حاصل کی

خلیج اردو
شارجہ کے علاقے الحمیریہ میں نوجوان اماراتیوں کے لیے منعقد کیے گئے فشنگ تربیتی پروگرام میں طلبہ نے کشتی تیار کرنے، سمندری حفاظتی اصولوں پر عمل کرنے اور مچھلی کو محفوظ رکھنے جیسے عملی ہنر سیکھے۔

النخدہ (جہاز کے کپتان) کے نام سے شروع کیے گئے اس پروگرام کا مقصد متحدہ عرب امارات کے قدیم پیشے ماہی گیری کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے۔

شرکا میں شامل سلطان محمد خلفان الشامسی نے کہا کہ اس پروگرام میں شرکت ان کا دیرینہ خواب پورا ہونے کے مترادف ہے، جہاں انہیں تجربہ کار ماہی گیروں سے روایتی ماہی گیری سیکھنے کا موقع ملا۔

چار روزہ تربیتی پروگرام کے دوران نوجوانوں نے سمندر جانے سے پہلے کشتی کی تیاری، ماہی گیری سے متعلق قوانین، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، مچھلی کو ٹھنڈا رکھنے، محفوظ کرنے اور فروخت کرنے کے طریقے سیکھے۔

یہ پروگرام الحمیریہ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی نے منعقد کیا، جس کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو متحدہ عرب امارات کی سمندری تاریخ سے آگاہ کرنا اور انہیں ماہی گیری کے عملی ہنر فراہم کرنا تھا۔

سوسائٹی کے چیئرمین جمال ماجد الشمسی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور ملک کے سمندری ورثے کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ ماہی گیری کا علم ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو یو اے ای میں ماہی گیری کی تاریخ، ماحولیاتی تحفظ، سمندری وسائل کے بہتر استعمال اور مستقبل کے ماہی گیروں کی تیاری کے حوالے سے تربیت دی گئی۔

6 سے 9 جولائی تک جاری رہنے والے پروگرام میں کلاس روم تعلیم کے ساتھ عملی تربیت بھی شامل تھی، جہاں مقامی تجربہ کار ماہی گیروں نے کئی دہائیوں پر مشتمل اپنے تجربات نوجوانوں سے شیئر کیے۔

الحمیریہ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے نائب چیئرمین حریب سلطان بن حریب المہیری کے مطابق تربیتی نصاب میں نظریاتی معلومات کے ساتھ عملی تجربات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

شرکا کو روایتی ماہی گیری کے طریقوں، سمندری حفاظتی اصولوں، بدلتے موسم کو سمجھنے، تیز ہواؤں سے نمٹنے اور سمندر میں پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کی تربیت دی گئی۔

شرکا محمد حریب سلطان بن حریب نے بتایا کہ انہوں نے کشتی چلانے، ماہی گیری کے آلات تیار کرنے، لائن فشنگ، گرگور فشنگ اور الحمیریہ کے قدیم طریقہ الدغوہ کے بارے میں سیکھا۔

ایک اور شریک محمد احمد سعید المہیری نے کہا کہ تجربہ کار ماہی گیروں سے براہ راست سیکھنے سے انہیں پیشے کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی۔

منتظمین کے مطابق پہلے تربیتی پروگرام کو توقعات سے زیادہ کامیابی ملی اور شرکا میں ماہی گیری کے حوالے سے اعتماد اور عملی صلاحیتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ کامیاب پہلے مرحلے کے بعد مستقبل میں مزید تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ نوجوان ماہی گیروں کو تیار کیا جا سکے اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے لیے تجربات نئی نسل تک منتقل کیے جا سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button