
خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات میں اگلے ماہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت جون کے آغاز سے اب تک 11 ڈالر فی بیرل سے زائد کم ہو چکی ہے، جبکہ پیر کے روز امن معاہدے کی خبر کے بعد قیمت میں ایک ہی دن میں 4 فیصد یا 3.7 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
متحدہ عرب امارات میں 2015 سے ایندھن کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق ماہانہ بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں، اس لیے خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی براہ راست مقامی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ جون میں چوتھے مسلسل مہینے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، جس کے بعد سپر 98 پیٹرول 3.95 درہم، اسپیشل 95 پیٹرول 3.83 درہم اور ای پلس 91 پیٹرول 3.76 درہم فی لیٹر مقرر کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق جون کے پہلے دو ہفتوں میں برینٹ خام تیل کی اوسط اختتامی قیمت 92.96 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ مئی کے پہلے دو ہفتوں میں یہ 105 ڈالر فی بیرل سے زائد تھی۔ اس فرق کی بنیاد پر ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ نہ بڑھی اور تیل کی قیمتیں نیچے رہیں تو جولائی میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کے بعد توجہ دوبارہ طلب اور رسد کے توازن پر مرکوز ہوگی۔ امکان ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک پیداوار میں بتدریج اضافہ کریں، جبکہ چین کی جانب سے درآمدات میں سست روی بھی عالمی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔
نئی پیٹرول قیمتوں کا باضابطہ اعلان رواں ماہ کے اختتام پر کیا جائے گا، تاہم موجودہ رجحانات صارفین کے لیے کچھ ریلیف کی امید پیدا کر رہے ہیں۔







