
خلیج اردو
ایک نئی تحقیق کے مطابق دبئی کی ساحلی (واٹر فرنٹ) رہائشی جائیدادیں امارت کی سب سے قیمتی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری بن کر ابھری ہیں، جہاں محدود سپلائی اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
"دی فیوچر آف سی فرنٹ بینگ” رپورٹ، جسے وائٹ پیپر میڈیا کنسلٹنگ نے شمل ہولڈنگ کے لیے تیار کیا، کے مطابق 2021 میں ساحلی گھروں کی قیمتیں اندرونِ شہر گھروں کے مقابلے میں 90 فیصد زیادہ تھیں، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی تک یہ فرق بڑھ کر 128 فیصد ہو گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دبئی کی اعلیٰ درجے کی ساحلی جائیدادوں کی قیمتوں میں 140 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو مجموعی رہائشی مارکیٹ کی کارکردگی سے کہیں بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق ساحلی اراضی کی قلت اس اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ اندازہ ہے کہ زیرِ تعمیر پریمیم واٹر فرنٹ یونٹس کی تعداد 2026 میں 4,261 سے کم ہو کر 2031 تک صرف 848 رہ جائے گی، جبکہ آبادی میں اضافے، دولت مند سرمایہ کاروں کی آمد اور دبئی کی عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔
2025 میں دبئی میں 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے 68 لگژری گھروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی، جبکہ لگژری رہائشی جائیدادوں کی مجموعی فروخت 9.05 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2024 کے مقابلے میں 27.7 فیصد زیادہ ہے۔
سروے کے مطابق 82 فیصد یو اے ای کے رہائشی آئندہ دو سے تین برس میں سمندر یا مرینا کے قریب گھر خریدنے یا منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ 93 فیصد افراد ایسی جائیداد کے لیے اضافی قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔ اسی طرح 99 فیصد کا ماننا ہے کہ پانی کے قریب واقع جائیداد کی طویل المدتی قدر زیادہ ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 88 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ سمندر کے قریب رہنے سے ذہنی اور جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے، جبکہ 91 فیصد نے بتایا کہ پانی کے قریب وقت گزارنے سے انہیں نمایاں ذہنی سکون ملتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب خریدار صرف سمندر کے کنارے گھر نہیں بلکہ ایسا طرزِ زندگی چاہتے ہیں جس میں نجی ساحل، فلاح و بہبود کی سہولیات، کم گنجان آبادی، کھلی فضا اور مضبوط کمیونٹی کا ماحول موجود ہو۔
تحقیق کے مطابق اب 48 فیصد افراد کے نزدیک سمندر کے قریب رہائش جدید لگژری کی سب سے اہم علامت بن چکی ہے، جو روایتی شان و شوکت اور تعمیراتی ڈیزائن سے بھی زیادہ اہم سمجھی جا رہی ہے۔







