
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سونے کے زیورات کی طلب بلند قیمتوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، تاہم سرمایہ کار سونے کی اینٹوں اور سکوں کی خریداری میں دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق رواں سال کی دوسری ششماہی میں زیورات کی طلب کم رہنے کا امکان ہے جبکہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور متبادل سرمایہ کاری کے محدود مواقع سونے میں سرمایہ کاری کی طلب کو سہارا دیتے رہیں گے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کی گولڈ ڈیمانڈ ٹرینڈز رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں عالمی سطح پر زیورات کی طلب کم ہوکر 278 ٹن رہ گئی جو کورونا وبا کے بعد کسی سہ ماہی کی کم ترین سطح ہے۔ تاہم سونے کے زیورات پر اخراجات سالانہ بنیاد پر 14 فیصد بڑھ کر 40 ارب ڈالر ہوگئے۔
مشرق وسطیٰ میں بھی زیورات کی طلب کم رہی۔ یو اے ای میں سونے کے زیورات کی طلب میں سالانہ بنیاد پر مسلسل 14ویں سہ ماہی کمی ریکارڈ کی گئی۔ خطے میں بلند قیمتوں کے باعث صارفین کی قوت خرید متاثر ہوئی جبکہ امریکی ایران تنازع کے باعث سیاحوں کی آمد میں کمی نے بھی یو اے ای کی مارکیٹ پر اثر ڈالا۔
دوسری جانب یو اے ای میں سونے کی اینٹوں اور سکوں میں سرمایہ کاری کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔ دوسری سہ ماہی کے دوران بار اور کوائنز میں سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر 30 فیصد بڑھ گئی۔
رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی خریداری کو تقویت دی جبکہ سہ ماہی کے دوران سونے کی قیمتوں میں کمی نے بھی سرمایہ کاروں کو خریداری کا موقع فراہم کیا۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق بھارت کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی میں اضافے نے بھی یو اے ای میں سونا خریدنے کو بھارتی خریداروں کے لیے نسبتاً زیادہ پرکشش بنا دیا ہے، جس سے رواں سال کے باقی عرصے میں یو اے ای میں بھارتی تارکین وطن کی جانب سے سونے کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی سطح پر دوسری سہ ماہی میں مجموعی سونے کی طلب 1,269 ٹن رہی جبکہ سال کی پہلی ششماہی میں طلب 2 فیصد اضافے کے ساتھ 2,522 ٹن تک پہنچ گئی۔ بلند قیمتوں کے باعث سونے کی مجموعی طلب کی مالیت ریکارڈ 380 ارب ڈالر رہی۔







