
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے یونیورسٹی طلبہ نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو انشورنس کلیمز جمع کرانے سے پہلے ہی ان میں موجود ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کر کے مسترد ہونے کے امکانات کم کرتا ہے۔
کلیم گارڈ اے آئی (ClaimGuard AI) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعید الغلادری کے مطابق یہ خیال انہیں فاؤنڈرز آف ٹومارو پروگرام کے دوران آیا، جسے دبئی ایس ایم ای اور انجاز یو اے ای نے مشترکہ طور پر شروع کیا ہے تاکہ طلبہ کے جدید کاروباری آئیڈیاز کو عملی کاروبار میں تبدیل کیا جا سکے۔
سعید الغلادری کا کہنا تھا کہ انشورنس کلیم مسترد ہونا صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اس سے اسپتالوں کی آمدنی، آپریشنل کارکردگی اور مریضوں کی دیکھ بھال بھی متاثر ہوتی ہے، اسی لیے انہوں نے ایسا حل تیار کیا جو کلیمز مسترد ہونے سے پہلے ہی ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کر دے۔
یہ پلیٹ فارم انشورنس کلیمز کا تجزیہ کرکے ان غلطیوں یا مسائل کی نشاندہی کرتا ہے جو مسترد ہونے کا سبب بن سکتے ہیں، تاکہ اسپتال اور طبی ادارے بروقت ان کی اصلاح کر سکیں، ادائیگیوں میں تاخیر کم ہو اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
انشورنس بروکر eSanad کے مطابق کلیمز مسترد ہونے کی عام وجوہات میں پہلے سے موجود بیماریوں کی معلومات ظاہر نہ کرنا، پیشگی منظوری نہ لینا، ڈیجیٹل ای کلیم کوڈ میں غلطی اور ICD-11 بین الاقوامی کوڈنگ معیار سے مطابقت نہ ہونا شامل ہیں۔
دبئی ایس ایم ای کے بزنس انکیوبیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر عبدالعزیز المعزمی نے کہا کہ فاؤنڈرز آف ٹومارو پروگرام کا مقصد طلبہ کو عملی کاروباری تجربہ فراہم کرنا اور ان کے منصوبوں کو تجارتی شکل دینے میں مدد کرنا ہے۔
پروگرام کے حالیہ مرحلے میں 20 سے زائد طلبہ نے 9 مختلف منصوبوں پر کام کیا، جن میں دبئی پولیس، ایمریٹس فلائٹ کیٹرنگ، دبئی ایئر نیویگیشن سروسز، دبئی میری ٹائم اتھارٹی اور امریکن ہاسپٹل دبئی جیسے اداروں کو درپیش مسائل کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کیے گئے۔
طلبہ کو تین ماہ تک سرکاری اور نجی اداروں کے ماہرین کی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ دبئی ایس ایم ای کامیاب منصوبوں کو انکیوبیشن، کاروباری معاونت اور ضرورت کے مطابق فنڈنگ کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ پروگرام متحدہ عرب امارات کی تمام جامعات کے طلبہ کے لیے کھلا ہے، بشرطیکہ ان کا منصوبہ دبئی میں نافذ کیا جائے۔







