
خلیج اردو
دبئی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبہ اپنے طویل المدتی ماسٹر پلان کے مطابق 2032 میں آپریشنز کا آغاز کرے گا، جبکہ اگلے مرحلے میں 55 ارب درہم سے زائد مالیت کے معاہدے جاری کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق اس وقت ایئرپورٹ پر 13 ارب درہم سے زائد مالیت کے تعمیراتی معاہدوں پر کام جاری ہے۔ یہ منصوبہ دبئی کی معاشی ترقی، عالمی رابطہ کاری اور مستقبل کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا کہ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ دبئی اکنامک ایجنڈا ڈی 33 کے اہداف کے حصول میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ فضائی شعبے کی استعداد میں اضافہ کرے گا، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نظام کو مزید مؤثر بنائے گا اور اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گا۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کا سب سے بڑا فضائی مرکز بن جائے گا، جہاں سالانہ 26 کروڑ سے زائد مسافروں اور ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن فضائی کارگو کو سنبھالنے کی صلاحیت ہوگی۔
ایئرپورٹ میں پانچ متوازی اور آزادانہ طور پر چلنے والی رن ویز، دو مسافر ٹرمینلز اور سات بڑے کانکورسز شامل ہوں گے، جو 430 سے زائد طیاروں کی پارکنگ گاہوں سے منسلک ہوں گے۔ منصوبے میں خودکار مسافر نقل و حرکت کا نظام اور فضائی، ریلوے اور سڑک نیٹ ورکس کے درمیان مربوط رابطہ بھی شامل ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیئرمین شیخ احمد بن سعید آل مکتوم نے کہا کہ منصوبہ اب بڑے پیمانے پر تعمیراتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق 13 ارب درہم کے جاری معاہدے اور 55 ارب درہم سے زائد کے آئندہ منصوبے اس پیش رفت اور تیز رفتار ترقی کا واضح ثبوت ہیں۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پال گریفتھس نے بھی گزشتہ ہفتے واضح کیا تھا کہ المکتوم ایئرپورٹ پر کام مکمل طور پر منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے اور حالیہ عالمی واقعات نے دبئی کی طویل المدتی فضائی حکمت عملی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔
ماہرین کے مطابق المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل دبئی کو عالمی تجارت، سیاحت، لاجسٹکس اور بین الاقوامی رابطوں کے ایک اور مضبوط مرکز کے طور پر مستحکم کرے گی اور آئندہ کئی دہائیوں تک معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔







