متحدہ عرب امارات

انڈونیشیا کا ’چھپکلی خاندان‘: بدنامی سے عالمی آگاہی تک کا سفر

دبئی: انڈونیشیا کے صوبہ شمالی سماٹرا کے ایک دور دراز گاؤں میں رہنے والا منورنگ خاندان سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے بعد عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ان کی روزمرہ زندگی نے برسوں سے قائم تعصبات اور غلط فہمیوں کو چیلنج کیا ہے۔

منورنگ خاندان کے چھ بہن بھائیوں میں سے چار ایک نایاب جینیاتی بیماری کے ساتھ پیدا ہوئے، جو چہرے کی ساخت کو متاثر کرتی ہے۔ اس ظاہری فرق کی وجہ سے گاؤں کے کچھ افراد نے برسوں تک انہیں بدقسمت یا منحوس قرار دیا اور توہین آمیز طور پر “چھپکلی خاندان” کہہ کر پکارا، جو سائنسی حقیقت کے بجائے توہم پرستی پر مبنی تھا۔

کیدونگ کانگ گاؤں میں اس ظاہری فرق کے باعث خاندان کو سماجی تنہائی اور شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ بہن بھائی ٹریچر کولنز سنڈروم کا شکار ہیں، جو ایک موروثی بیماری ہے اور چہرے کی ہڈیوں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں گالوں کی ہڈیاں کمزور، جبڑا چھوٹا اور چہرے کے خدوخال مختلف ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بیماری ذہانت، اندرونی اعضا یا عمر پر اثر انداز نہیں ہوتی، لیکن ظاہری فرق کے باعث متاثرہ افراد کو اکثر امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یوٹیوب چینل “ٹرولی” پر نشر ہونے والی ایک ڈاکومنٹری میں خاندان کے والد نے بتایا کہ یہ بیماری ان کے خاندان میں موروثی ہے اور وہ خود بھی اس سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے چہرے مختلف ہیں، لیکن ہم نے اسے قبول کیا ہے اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔

خاندان کے ایک فرد سوریا منورنگ نے بتایا کہ ملازمت کی تلاش کے دوران انہیں برسوں تک رد کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا اور صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر مواقع بند ہو جاتے تھے، جس سے ان کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا۔

خاندان کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا۔ پسپائی اختیار کرنے کے بجائے انہوں نے اپنی روزمرہ زندگی، کام اور خاندانی لمحات کھلے انداز میں شیئر کرنا شروع کیے۔ ان کی سادگی اور حقیقت پسندی نے دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا اور آج ان کے یوٹیوب اور ٹک ٹاک چینلز پر لاکھوں فالوورز ہیں۔

اب منورنگ خاندان نہ صرف اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا چکا ہے بلکہ نایاب جینیاتی بیماریوں سے متعلق آگاہی پھیلانے اور خود کو قبول کرنے کا پیغام بھی دے رہا ہے، جہاں فرق کو بدقسمتی نہیں بلکہ انسانی تنوع کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button