متحدہ عرب امارات

شعبان کا چاند 18 جنوری کو نظر نہ آنے کی تصدیق، رجب 30 دن مکمل ہوگا

ابوظہبی: ماہرینِ فلکیات نے تصدیق کی ہے کہ اتوار 18 جنوری کو شعبان کا چاند نظر آنا ممکن نہیں، جس کے باعث دنیا کے کئی حصوں میں اسلامی مہینہ رجب 30 دن مکمل کرے گا۔

انٹرنیشنل آسٹرونومیکل سینٹر کے مطابق اتوار کو متعدد اسلامی ممالک میں رجب 1447 ہجری کا 29 واں دن تھا، تاہم فلکیاتی حالات ناموافق ہونے کے باعث شعبان کا چاند اس دن دنیا کے کسی بھی حصے میں دیکھا جانا ممکن نہیں تھا، کیونکہ چاند سورج سے پہلے غروب ہو گیا، جس سے رویت سائنسی طور پر ناممکن ہو گئی۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اسی دن رجب کا چاند واضح طور پر موجود تھا اور غروبِ آفتاب سے کچھ دیر قبل دن کی روشنی میں اس کی تصاویر بھی حاصل کی گئیں۔

ان حالات کے پیش نظر ان ممالک میں رجب 30 دن کا ہوگا اور منگل کو شعبان کا پہلا دن ہوگا۔

سینٹر کے ڈائریکٹر محمد شوکت عودہ کے مطابق پاکستان، ایران، بنگلہ دیش، عمان، اردن، شام، لیبیا، مراکش، موریطانیہ اور البانیہ سمیت بعض دیگر اسلامی ممالک میں رجب کا 29 واں دن پیر 19 جنوری کو ہوگا۔

ان ممالک میں پیر کے روز شعبان کے چاند کا مشاہدہ دوربین کے ذریعے دنیا کے بیشتر حصوں میں ممکن ہوگا، تاہم آسٹریلیا، یورپ، ایشیا کے بیشتر علاقوں اور مشرقی افریقہ میں چاند دیکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ وسطی، مغربی اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ساتھ امریکہ کے بعض حصوں میں رویت نسبتاً آسان ہونے کی توقع ہے، جبکہ کھلی آنکھ سے چاند دیکھنے کا امکان صرف شمالی اور جنوبی امریکہ کے وسطی علاقوں میں ہے۔

ان فلکیاتی اندازوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک میں شعبان کا آغاز منگل 20 جنوری کو متوقع ہے، جبکہ بعض ممالک بدھ 21 جنوری کو شعبان شروع کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

محمد شوکت عودہ نے بتایا کہ پیر کے روز مختلف شہروں میں غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی پوزیشن مختلف ہوگی۔ جکارتہ میں چاند سورج کے غروب ہونے کے 30 منٹ بعد غروب ہوگا اور اس کی عمر 16 گھنٹے 26 منٹ ہوگی۔ ابوظہبی میں چاند 35 منٹ بعد غروب ہوگا اور عمر 17 گھنٹے 56 منٹ ہوگی، جبکہ ریاض میں یہ 36 منٹ بعد اور 18 گھنٹے 18 منٹ کی عمر میں غروب ہوگا۔

عمان اور بیت المقدس میں چاند 37 منٹ بعد غروب ہوگا اور عمر 18 گھنٹے 35 منٹ ہوگی، قاہرہ میں 38 منٹ بعد اور عمر 18 گھنٹے 48 منٹ ہوگی، جبکہ رباط میں چاند 43 منٹ بعد غروب ہوگا اور عمر 20 گھنٹے 32 منٹ ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام مقامات پر چاند کی رویت صرف دوربین کے ذریعے ممکن ہوگی، جبکہ رباط اور جنوبی مراکش میں کھلی آنکھ سے دیکھنے کا بہت معمولی امکان موجود ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ عددی پیمانے اہم ہوتے ہیں، تاہم صرف انہی کی بنیاد پر چاند نظر آنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ تاریخ میں کھلی آنکھ سے چاند دیکھنے کی کم ترین عمر 15 گھنٹے 33 منٹ اور کم ترین غروبانی وقفہ 29 منٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، مگر رویت کا انحصار دیگر عوامل پر بھی ہوتا ہے، جن میں سورج سے زاویائی فاصلہ اور افق پر چاند کی بلندی شامل ہے۔

انٹرنیشنل آسٹرونومیکل سینٹر کے مطابق چاند کی رویت سے متعلق تفصیلی نتائج اسلامی کریسنٹس آبزرویشن پروجیکٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button