
دبئی: دبئی کی گولڈ مارکیٹ پیر کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر کھلی، جہاں 24 قیراط سونے کی قیمت پہلی بار 560 درہم سے تجاوز کر گئی۔ صبح 8 بج کر 10 منٹ پر 24 قیراط سونا 561.25 درہم فی گرام فروخت ہوا، جو اتوار کو 553.75 درہم تھا۔ اسی طرح 22 قیراط سونے کی قیمت 519.75 درہم تک پہنچ گئی، جو ایک روز قبل 512.75 درہم تھی۔
یہ اضافہ جنوری کے دوران جاری مضبوط تیزی کا تسلسل ہے، جس کی بنیادی وجوہات عالمی جغرافیائی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے قیمتی دھاتوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہیں۔
اس ماہ قیمتوں کی صورتحال
جنوری کے آغاز میں 24 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 520 درہم جبکہ 22 قیراط سونا 481 درہم کے قریب تھا۔ مہینے کے دوسرے ہفتے میں تیزی آئی اور 24 قیراط سونا 540 درہم کی سطح میں داخل ہوا۔ ماہ کے وسط تک قیمتیں 550 درہم سے تجاوز کر گئیں اور 19 جنوری کو 561.25 درہم تک پہنچ گئیں۔
22 قیراط سونے نے بھی یہی رجحان اختیار کیا۔ مہینے کے آغاز میں 480 درہم کے قریب رہنے والی قیمتیں 500 درہم سے اوپر گئیں اور اب 519.75 درہم تک پہنچ چکی ہیں۔ تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 24 قیراط سونے میں تقریباً 40 درہم اور 22 قیراط میں لگ بھگ 38 درہم کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی کشیدگی سے تیزی
عالمی منڈیوں میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول کی کوششوں میں تیزی اور امریکا و یورپ کے درمیان ممکنہ تجارتی تنازع کے خدشات نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے اور چاندی کی طلب بڑھا دی ہے۔
اسپاٹ گولڈ تقریباً 4,660 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ ہوا جبکہ چاندی کی قیمت میں 4.4 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ امریکا کی جانب سے یورپی ممالک پر نئے ٹیرف کے اعلان نے بھی سرمایہ کاروں کو قیمتی دھاتوں کی جانب راغب کیا۔
مالی خدشات اور سرمایہ کاری
ماہرین کے مطابق مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر دباؤ، کرنسیوں کی قدر میں کمی کے خدشات اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری نے بھی سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے عالمی سطح پر گولڈ ای ٹی ایف ہولڈنگز میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جو ستمبر کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
دیگر دھاتیں بھی مہنگی
ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث تانبے سمیت دیگر دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چین میں مصنوعی ذہانت اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں طلب بڑھنے سے صنعتی دھاتوں کی قیمتوں کو بھی تقویت ملی ہے، تاہم رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سست روی مستقبل میں طلب پر اثر ڈال سکتی ہے۔
مجموعی طور پر عالمی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے رجحانات نے دبئی سمیت دنیا بھر میں سونے کی قیمتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔






