سونے کے نرخ

**دبئی میں سونے کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر — ریٹ Dh560 کے قریب پہنچ گئے**

 

 

دبئی: دبئی میں سونے کی قیمتیں بدھ کی صبح تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جب سرمایہ کاروں نے جغرافیائی کشیدگی اور امریکی مالیاتی پالیسی سے جڑی غیر یقینی صورتحال کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رخ کیا۔

24 قیراط سونا دبئی میں Dh558 فی گرام تک پہنچ گیا، جو منگل کے روز Dh555.50 تھا۔ اسی طرح 22 قیراط سونے کی قیمت بھی بڑھ کر Dh516.75 فی گرام ہو گئی، جو ایک روز قبل Dh514.25 تھی۔

سال کے آغاز سے اب تک سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یکم جنوری کو 24 قیراط سونا Dh520 سے کچھ اوپر تھا، جو پہلے ہفتے میں Dh536 سے آگے نکل گیا اور بعد ازاں تیزی سے بڑھتا ہوا اس ہفتے کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچا۔ 10 جنوری کے بعد رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا، جب قیمتیں Dh543 سے اوپر نکلیں۔

عالمی اور مقامی عوامل اس رجحان کی پشت پر ہیں۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمتیں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور امریکی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری سے متعلق خدشات کے باعث محفوظ اثاثوں کی بڑھتی طلب سے سہارا پا رہی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق عالمی منڈی میں بھی سونا ریکارڈ سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ چاندی کی قیمت فی اونس 90 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظر اب امریکی مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں پر ہے۔ FFA Kings کے بانی و سی ای او فادی الکردی کے مطابق مجموعی معاشی ماحول اب بھی سونے کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس ماہ شرح سود میں تبدیلی کا امکان کم ہے، تاہم سال کے دوران دو بار کٹوتی کی توقع سونے کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف کی امریکی دھمکی اور دیگر جغرافیائی بے یقینیوں نے محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کو مزید تقویت دی ہے۔

اسی دوران امریکی فیڈ چیئرمین جیروم پاول کے خلاف قانونی کارروائی نے مالیاتی پالیسی میں سیاسی مداخلت کے خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ DHF Capital S.A کے سی ای او باس کویجمان کے مطابق فیڈ کی خودمختاری سے متعلق کسی بھی منفی تاثر سے محفوظ سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔

دبئی میں جنوری کے آغاز سے 24 قیراط سونے کی قیمت میں تقریباً Dh38 فی گرام اضافہ ہو چکا ہے، جس سے خریداروں کے لیے قیمتیں زیادہ ہو گئیں، تاہم وہ سرمایہ کار جو پہلے سے سونا رکھتے ہیں، ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اعداد و شمار، مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور جغرافیائی سیاسی پیش رفتوں کے باعث آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتیں عالمی خبروں کے ساتھ اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button