متحدہ عرب امارات میں مساجد میں نماز کی پابندی کے سبب اذان کے الفاظ کو تبدیل کیا گیا تھا, جس میں بدھ کی صبح تین ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد ایک بار پھر ترمیم کیا گیا ۔ معزین نے "الصلاة في بويوتيكو” (اپنے گھروں میں نماز پڑھے ) کا جملہ اذان میں دینا شروع کردیا تھا جسکو ایک بار پھر "حیا الصلاح ۔”(نماز کے لئے آو) کردیا گیا ہے ۔
متحدہ عرب امارات میں ایک نیا سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں مساجد میں نماز سے پابندی ہٹا دی گئی ہے جبکہ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگلے نوٹس تک تمام مساجد میں نماز جمعہ معطل رہے گی۔
اس مراسلہ میں کچھ اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسجد جانے والوں کو دھیان میں رکھنا چاہئے کہ "اذان اور اقامتہ کے مابین نماز کے لئے پانچ منٹ کا وقفہ ہوگا ، سوائے نماز فجر کے ، جس کے لئے یہ وقفہ 10 منٹ کا ہوگا۔ ہر اجتماعی نماز کے بعد مساجد کو جلد ہی بند کر دیا جائے گا اور مسجد صرف 20 منٹ کے لئے کھولا جائیگا۔
اس سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسجد انتظامیہ کو چوکنا رہنا چاہئے اور مساجد میں آتے ہوئے اپنی چٹائوں (مسلہوں) کو لانے کی اہمیت کے بارے میں نمازیوں کے درمیان آگاہی پیدا کرنی ہوگی اور بعد میں انہیں وہ واپس لے جانی ہوگی ۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ مسجد کے اماموں کو بھی نماز میں نماز کے وقت چہرے پر ماسک پہننا لازمی ہوگا ۔
- کچھ سرگرمیاں جو اگلے نوٹس تک معطل رہیں گی اس میں مساجد کے اندر کسی لکچر یا خطبہ کا انعقاد نہ کرنا بھی شامل ہے ۔ سرکلر کے مطابق مسجدوں میں واٹر کولر اور ڈسپینسر بھی آئندہ اطلاع تک دستیاب نہیں رہیں گے
Source : Khaleej Times







