
خلیج اردو
سادہ فارم ہاؤسز کے کرائے ایک ہزار درہم فی رات سے شروع ہو رہے ہیں، جبکہ لگژری ولاز کے کرائے چھ ہزار درہم فی رات تک جا پہنچے ہیں۔
فارم ہاؤس مالکان کے مطابق سرد موسم میں لوگ آؤٹ ڈور سرگرمیوں، فیملی گیدرنگز اور پرائیویسی کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث ہوٹلوں کے مقابلے میں فارم ہاؤسز کی مانگ بڑھ گئی ہے۔
الریف فارم کے مالک اور منیجر حمید کا کہنا ہے کہ
“سردیوں میں مہمان زیادہ وقت باہر گزارتے ہیں، اسی لیے وہ کشادہ جگہ، نجی سوئمنگ پول اور مکمل سہولیات چاہتے ہیں، جو قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔”
درمیانے درجے کے فارم ہاؤسز کے کرائے ہفتے کے دنوں میں 15 سو سے 2 ہزار درہم جبکہ ویک اینڈ پر 25 سو سے 35 سو درہم تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
فوٹیج: نیٹ
بڑے اور لگژری فارم ہاؤسز، جن میں متعدد پولز، بڑے ہالز اور تفریحی سہولیات شامل ہوں، تعطیلات اور مصروف ویک اینڈز پر چھ ہزار درہم یومیہ تک کرایہ وصول کر رہے ہیں۔
گرین ہیون فارم ہاؤس کے مالک سلمان خان کے مطابق کارپوریٹ ادارے بھی اب فارم ہاؤسز کو ٹیم آؤٹنگ اور غیر رسمی ریٹریٹس کے لیے ترجیح دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فارم ہاؤسز میں باربی کیو، میوزک اور بون فائر جیسی سرگرمیوں کی آزادی ہوٹلوں کے مقابلے میں ایک بڑا فائدہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ فارم ہاؤسز کی مانگ سال بھر رہتی ہے، تاہم سردیوں میں خوشگوار موسم کے باعث آؤٹ ڈور تقریبات میں اضافہ قیمتوں کو مزید اوپر لے جاتا ہے۔






